پاک افغان جھڑپیں، پس منظر کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
11 اکتوبر کی شب پاکستان اور افغانستان کی حالیہ تاریخ کی شدید ترین جھڑپیں ہوئیں۔پاکستان کے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں کا آغاز افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی کئی بارڈر چیک پوسٹوں پر بلا اشتعال فائرنگ سے ہوا جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف افغان طالبان کی 19 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا بلکہ افغانستان کے اندر کئی ایسے ٹھکانوں کو تباہ کیا جہاں سے دہشتگرد پاکستان بھیجے جا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب، 19 افغان چوکیوں پر پاک فوج کا قبضہ
پاکستان کی جانب سے ان حملوں کا مسلسل جواب دیا جا رہا ہے اور ہر اس جگہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائی ہوتی ہے یا دہشت گرد بھیجے جاتے ہیں۔
بعد ازاں سامنے آنے والے حقائق سے اندازہ ہوتا ہے کہ فائرنگ کی یہ کارروائی معمول کے ان واقعات سے کہیں زیادہ سنگین ہے جن میں دہشتگردوں کو پاکستان کی سرحد پار کروانے کے لیے فائرنگ کا ’کور‘ دیا جاتا ہے۔
درحقیقت یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب عبوری افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھارت کے دورے پر تھے اور اس دوران انہوں نے نہ صرف پاکستان مخالف بیانات جاری کیے بلکہ کشمیر کو انڈیا کا حصہ بھی تسلیم کیا۔
’فوجی بوٹوں کو سفارت کاری کا لباس پہنانے کی کوشش‘ایک طرف افغانستان کے عبوری وزیرخارجہ کی دہلی میں بیٹھ کر بیان بازی اور دوسری طرف سرحد پر اشتعال انگیزی کے بعد کابل اور دہلی کے درمیان وہ ہم آہنگ منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے جس کا مقصد پاکستان کو غیر اعلانیہ جنگ، پراپیگنڈے اور سفارتی دباؤ کے ذریعے غیر مستحکم کرنا ہے اور اس کی پیش بندی پاکستان کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں کے اطراف ایک عرصے سے ہو رہی تھی۔
پاکستانی حکام اس ٹائمنگ کو ایک خاص نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ عین اسی وقت جب امیر متقی دہلی میں امن کی بات کر رہے تھے تو ان کے زیرِ انتظام اہلکار سرحد پار فائرنگ میں مصروف تھے۔
پاکستان کے پالیسی ساز حلقے اس پیشرفت کو أفغان طالبان کی جانب سے ’فوجی بوٹوں کو سفارت کاری کا لباس‘ پہنانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں بھارت میں بڑھتی ہوئی افغان سرگرمیوں اور سرحد پر عسکری کارروائیوں میں ایک منظم تسلسل ہے جس کا مقصد پاکستان دشمن عناصر کو سیاسی تحفظ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائے گا‘، صدر اور وزیراعظم کا افغان جارحیت پر سخت ردِعمل
پاکستانی حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ افغان طالبان فورسز کی جانب سے بیک وقت مختلف صوبوں سے سرحدی علاقوں پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ ان کارروائیوں کے پیچھے کوئی مرکزی منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ اس منصوبہ بندی پر خطے کے ایسے عناصر کا اثر ہے جو جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
کابل کی سیاسی قیادت ایک جانب بیرونِ ملک مذاکرات کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب اندرونِ ملک جارحیت کی اجازت دیتی ہے۔ یہ تضاد نہ صرف افغان عبوری حکومت کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ امن کے بیانیے کو بھی کمزور کرتا ہے۔
بھارت اور افغان عبوری حکومت کی قربت
پاکستانی حکام سمجھتے ہیں کہ بھارت کی افغان عبوری حکومت سے بیک وقت بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اور پاکستان کی سرحد پر جاری جھڑپیں اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ دہلی اور کابل پاکستان پر دو محاذوں سے دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔
ٹی ٹی پی سے افغان ریاست کی وابستگی
عبوری افغان حکومت کی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) عناصر سے بڑھتی ملی بھگت دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مزید کمزور کر رہی ہے۔ اگر کابل نے یہ پالیسی جاری رکھی تو اسے خطے میں مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انڈیا، افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے اتحاد کو ایک بڑے علاقائی گیم پلان کے تناظر میں بھی پرکھا جا رہا ہے۔
اسٹریٹیجک پالیسی ساز اس وقت انڈیا اور افغانستان کی سفارتی اور پاکستان کے اوپر سیکیورٹی اور دہشتگردی کا دباؤ بڑھانے کی پالیسی کو پاکستان کے موجودہ اندرونی اختلافات اور کمزوریوں کو استعمال کر کے غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان کو بھرپور جواب دیا جائے گا، وزیر داخلہ کا سخت ردعمل
اگرچہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سرحد پر اپنی فوجی کارروائیوں کو محض جارح عسکری اہداف تک محدود رکھ کر اور مصدقہ خفیہ معلومات کے تحت ترتیب دے کر عام لوگوں کو اس سے محفوظ رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں لیکن افغانستان اور طالبان نواز دیگر ڈیجیٹل میڈیا اکاونٹس ان سرحدی جھڑپوں میں اپنے نقصانات چھپانے کے لیے پرانے جنگی مناظر کو مخصوص زاویوں سے دوبارہ نشر کر کے اس بڑے گیم پلان میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق میدان جنگ میں ہاری ہوئی لڑائی کو سوشل میڈیا پر اس جھوٹے انداز سے پھیلانے کی یہ مہم بھارتی طریقۂ کار سے متاثر ہے جو انہوں نے بالخصوص مئی 2025 کی انڈیا۔پاکستان جنگ میں اپنایا تھا۔
پاکستان کے خلاف جارحیت اور انڈیا کے ساتھ دوستی کابل کو کتنی مہنگی پڑے گی؟
پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنے عوام کی فلاح کے بجائے تخریبی اتحادوں اور بیرونی اثرات کو ترجیح دے کر خود اپنے شہریوں سے دوری اختیار کر رہی ہے۔
افغان عوام تعلیم، صحت، تجارت اور روزگار کے لیے دہائیوں سے پاکستان پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ اور اگر کابل نے یہی روش برقرار رکھی تو پاکستان کے یہ دروازے جو ماضی میں افغان عوام کی بقا اور روابط کا ذریعہ رہے ہیں، بند ہو جائیں گے۔
ان پالیسیوں سے نہ صرف افغانستان علاقائی طور پر مزید تنہا ہو جائے گا بلکہ اس کے عوام اور پناہ گزینوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔
پاکستان نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ہم نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے قربانیاں دی ہیں، لیکن اگر ہمارے امن کے جذبے کو کمزوری سمجھا جائے تو ہمیں اپنی دفاعی پالیسی میں واضح اور متوازن ردعمل دینا ہوگا۔ پاکستان کو نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ جھکایا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف پاکستانی حکام اندرونی سطح پر بھی قومی وحدت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مؤثر بیانیے کے فروغ پر کام کر رہے ہیں۔
حالیہ واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ آنے والا وقت خطے میں مزید کشیدگی لائے گا اور پاکستان کو بیک وقت افغان طالبان اور انڈیا کی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہو گا، وہ جارحیت عسکری کے ساتھ ساتھ پراپیگنڈے کے میدان میں بھی ہو گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان عبوری حکومت پاکستانی حکام افغان طالبان پاکستان کی پاکستان کے کی جانب سے طالبان کی رہے ہیں ہیں کہ یہ بھی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔