WE News:
2026-06-03@01:55:33 GMT

پاک افغان جھڑپیں، پس منظر کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT

پاک افغان جھڑپیں، پس منظر کیا ہے؟

11 اکتوبر کی شب پاکستان اور افغانستان کی حالیہ تاریخ کی شدید ترین جھڑپیں ہوئیں۔پاکستان کے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں کا آغاز افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی کئی بارڈر چیک پوسٹوں پر بلا اشتعال فائرنگ سے ہوا جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف افغان طالبان کی 19 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا بلکہ افغانستان کے اندر کئی ایسے ٹھکانوں کو تباہ کیا جہاں سے دہشتگرد پاکستان بھیجے جا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب، 19 افغان چوکیوں پر پاک فوج کا قبضہ

پاکستان کی جانب سے ان حملوں کا مسلسل جواب دیا جا رہا ہے اور ہر اس جگہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائی ہوتی ہے یا دہشت گرد بھیجے جاتے ہیں۔

بعد ازاں سامنے آنے والے حقائق سے اندازہ ہوتا ہے کہ فائرنگ کی یہ کارروائی معمول کے ان واقعات سے کہیں زیادہ سنگین ہے جن میں دہشتگردوں کو پاکستان کی سرحد پار کروانے کے لیے فائرنگ کا ’کور‘ دیا جاتا ہے۔

درحقیقت یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب عبوری افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی بھارت کے دورے پر تھے اور اس دوران انہوں نے نہ صرف پاکستان مخالف بیانات جاری کیے بلکہ کشمیر کو انڈیا کا حصہ بھی تسلیم کیا۔

’فوجی بوٹوں کو سفارت کاری کا لباس پہنانے کی کوشش‘

ایک طرف افغانستان کے عبوری وزیرخارجہ کی دہلی میں بیٹھ کر بیان بازی اور دوسری طرف سرحد پر اشتعال انگیزی کے بعد  کابل اور دہلی کے درمیان وہ ہم آہنگ منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے جس کا مقصد پاکستان کو غیر اعلانیہ جنگ، پراپیگنڈے اور سفارتی دباؤ کے ذریعے غیر مستحکم کرنا ہے اور اس کی پیش بندی پاکستان کی مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں کے اطراف ایک عرصے سے ہو رہی تھی۔

پاکستانی حکام اس ٹائمنگ کو ایک خاص نظر سے دیکھ رہے ہیں  کیونکہ عین اسی وقت جب امیر متقی دہلی میں امن کی بات کر رہے تھے تو ان کے زیرِ انتظام اہلکار سرحد پار فائرنگ میں مصروف تھے۔

پاکستان کے پالیسی ساز حلقے اس پیشرفت کو أفغان طالبان کی جانب سے ’فوجی بوٹوں کو سفارت کاری کا لباس‘ پہنانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں بھارت میں بڑھتی ہوئی افغان سرگرمیوں اور سرحد پر عسکری کارروائیوں میں ایک منظم تسلسل ہے جس کا مقصد پاکستان دشمن عناصر کو سیاسی تحفظ دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر حد تک جائے گا‘، صدر اور وزیراعظم کا افغان جارحیت پر سخت ردِعمل

پاکستانی حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ افغان طالبان فورسز کی جانب سے بیک وقت مختلف صوبوں سے سرحدی علاقوں پر حملے ظاہر کرتے ہیں کہ ان کارروائیوں کے پیچھے کوئی مرکزی منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ اس منصوبہ بندی پر خطے کے ایسے عناصر کا اثر ہے جو جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

کابل کی سیاسی قیادت ایک جانب بیرونِ ملک مذاکرات کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب اندرونِ ملک جارحیت کی اجازت دیتی ہے۔ یہ تضاد نہ صرف افغان عبوری حکومت کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ امن کے بیانیے کو بھی کمزور کرتا ہے۔

بھارت اور افغان عبوری حکومت کی قربت

پاکستانی حکام سمجھتے ہیں کہ بھارت کی افغان عبوری حکومت سے بیک وقت بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں اور پاکستان کی سرحد پر جاری جھڑپیں اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ دہلی اور کابل پاکستان پر دو محاذوں سے دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔

ٹی ٹی پی سے افغان ریاست کی وابستگی

عبوری افغان حکومت کی تحریک طالبان پاکستان  (ٹی ٹی پی) عناصر سے بڑھتی ملی بھگت دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مزید کمزور کر رہی ہے۔ اگر کابل نے یہ پالیسی جاری رکھی تو اسے خطے میں مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انڈیا، افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے اتحاد کو ایک بڑے علاقائی گیم پلان کے تناظر میں بھی پرکھا جا رہا ہے۔

اسٹریٹیجک پالیسی ساز اس وقت انڈیا اور افغانستان کی سفارتی اور پاکستان کے اوپر سیکیورٹی اور دہشتگردی کا دباؤ بڑھانے کی پالیسی کو پاکستان کے موجودہ اندرونی اختلافات اور کمزوریوں کو استعمال کر کے غیر مستحکم کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان کو بھرپور جواب دیا جائے گا، وزیر داخلہ کا سخت ردعمل

اگرچہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سرحد پر اپنی فوجی کارروائیوں کو محض جارح عسکری اہداف تک محدود رکھ کر اور مصدقہ خفیہ معلومات کے تحت ترتیب دے کر عام لوگوں کو اس سے محفوظ رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں لیکن افغانستان اور طالبان نواز دیگر ڈیجیٹل میڈیا اکاونٹس ان سرحدی جھڑپوں میں اپنے نقصانات چھپانے کے لیے پرانے جنگی مناظر کو مخصوص زاویوں سے دوبارہ نشر کر کے اس بڑے گیم پلان میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق میدان جنگ میں ہاری ہوئی لڑائی کو سوشل میڈیا پر اس جھوٹے انداز سے پھیلانے کی یہ مہم بھارتی طریقۂ کار سے متاثر ہے جو انہوں نے بالخصوص مئی 2025 کی انڈیا۔پاکستان جنگ میں اپنایا تھا۔

پاکستان کے خلاف جارحیت اور انڈیا کے ساتھ دوستی کابل کو کتنی مہنگی پڑے گی؟

پاکستان  نے واضح کر دیا ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنے عوام کی فلاح کے بجائے تخریبی اتحادوں اور بیرونی اثرات کو ترجیح دے کر خود اپنے شہریوں سے دوری اختیار کر رہی ہے۔

افغان عوام تعلیم، صحت، تجارت اور روزگار کے لیے دہائیوں سے پاکستان پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ اور اگر کابل نے یہی روش برقرار رکھی تو پاکستان کے یہ دروازے جو ماضی میں افغان عوام کی بقا اور روابط کا ذریعہ رہے ہیں، بند ہو جائیں گے۔

ان پالیسیوں سے نہ صرف افغانستان علاقائی طور پر مزید تنہا ہو جائے گا بلکہ اس کے عوام اور پناہ گزینوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔

پاکستان نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ہم نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے قربانیاں دی ہیں، لیکن اگر ہمارے امن کے جذبے کو کمزوری سمجھا جائے تو ہمیں اپنی دفاعی پالیسی میں واضح اور متوازن ردعمل دینا ہوگا۔ پاکستان کو نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ جھکایا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف پاکستانی حکام اندرونی سطح پر بھی قومی وحدت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مؤثر بیانیے کے فروغ پر کام کر رہے ہیں۔

حالیہ واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ آنے والا وقت خطے میں مزید کشیدگی لائے گا اور پاکستان کو بیک وقت افغان طالبان اور انڈیا کی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہو گا، وہ جارحیت عسکری کے ساتھ ساتھ پراپیگنڈے کے میدان میں بھی ہو گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان عبوری حکومت پاکستانی حکام افغان طالبان پاکستان کی پاکستان کے کی جانب سے طالبان کی رہے ہیں ہیں کہ یہ بھی کے لیے

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں