بھارت کے لیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاکستان نے بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش میں توسیع کر دی۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نوٹم جاری کر دیا جس کے مطابق فضائی حدود بھارت کے لیے 23 اکتوبر تک بند رہے گی۔
نوٹم کے مطابق بھارت کے رجسٹرڈ طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود بدستور بند رہے گی، بھارتی ایئرلائنز کے زیرِ ملکیت یا لیز پر لیے گئے طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔
پاکستانی فضائی حدود بھارتی فوجی پروازوں کے لیے بھی بند رہے گی، پابندی 15 اکتوبر سے 24 نومبر 2025 تک نافذ رہے گی۔
واضح رہے کہ رواں سال مئی میں بھارت کی جانب سے پاکستان کی حدود پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد پاکستان نے فضائی حدود بھارت کے لیے بند کر دی تھی۔
فضائی حدود کی مسلسل بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو اربوں روپے کا نقصان کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت کے لیے رہے گی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔