صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ‘سفید چھڑی کے عالمی دن’ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ بصارت سے محروم افراد کی خودمختاری اور وقار کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ سفید چھڑی ہمت، اعتماد اور خودانحصاری کی علامت ہے، جبکہ جامع اور مساوی معاشرہ ایک ترقی یافتہ قوم کی پہچان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان معذور افراد کے لیے سہولیات کی فراہمی میں پیش پیش ہے تاکہ وہ قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے: سفید چھڑی کے عالمی دن پر صدر اور اسپیکر قومی اسمبلی کا اہم پیغام

صدر زرداری نے عوام اور تمام اداروں پر زور دیا کہ بصارت سے محروم افراد کی معاشرتی، تعلیمی اور معاشی شمولیت کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ مساوی مواقع کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ محبت، احترام اور مدد بصارت سے محروم افراد کا بنیادی حق ہے، اور سفید چھڑی کو معذوری نہیں بلکہ وقار اور مساوات کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان کا اصل سرمایہ اس کے لوگ ہیں، اور ہر فرد کی شمولیت اور صلاحیتوں کا فروغ ہی قومی ترقی کی بنیاد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی معذوری انفرادی یا اجتماعی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، جس کی روشن مثال اقوامِ متحدہ میں پاکستانی سفارت کار صائمہ سلیم ہیں، جنہوں نے بصارت سے محرومی کے باوجود اپنی ذہانت اور محنت سے پاکستان کا نام روشن کیا۔

یہ بھی پڑھیے: بصارت سے محروم افراد کیسے تعلیم حاصل کرتے ہیں؟

صدر زرداری نے کہا کہ صائمہ سلیم حوصلے، عزم اور قابلیت کی علامت بن چکی ہیں، اور ہمیں ان جیسے افراد پر فخر ہے۔

اپنے پیغام کے اختتام پر صدرِ پاکستان نے کہا:
‘آئیں ایک ایسا پاکستان بنائیں جہاں کوئی پیچھے نہ رہ جائے، کیونکہ قومی ترقی سب کے باہمی تعاون اور شمولیت سے ممکن ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بصارت سے محروم افراد سفید چھڑی صدر مملکت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بصارت سے محروم افراد سفید چھڑی صدر مملکت بصارت سے محروم افراد کی نے کہا کہ

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف