بصارت سے محروم افراد کی خودمختاری اولین ترجیح، صدرِ مملکت کا ‘سفید چھڑی کے عالمی دن’ کے موقع پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ‘سفید چھڑی کے عالمی دن’ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ بصارت سے محروم افراد کی خودمختاری اور وقار کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ سفید چھڑی ہمت، اعتماد اور خودانحصاری کی علامت ہے، جبکہ جامع اور مساوی معاشرہ ایک ترقی یافتہ قوم کی پہچان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان معذور افراد کے لیے سہولیات کی فراہمی میں پیش پیش ہے تاکہ وہ قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے: سفید چھڑی کے عالمی دن پر صدر اور اسپیکر قومی اسمبلی کا اہم پیغام
صدر زرداری نے عوام اور تمام اداروں پر زور دیا کہ بصارت سے محروم افراد کی معاشرتی، تعلیمی اور معاشی شمولیت کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ مساوی مواقع کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ محبت، احترام اور مدد بصارت سے محروم افراد کا بنیادی حق ہے، اور سفید چھڑی کو معذوری نہیں بلکہ وقار اور مساوات کی علامت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان کا اصل سرمایہ اس کے لوگ ہیں، اور ہر فرد کی شمولیت اور صلاحیتوں کا فروغ ہی قومی ترقی کی بنیاد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی معذوری انفرادی یا اجتماعی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، جس کی روشن مثال اقوامِ متحدہ میں پاکستانی سفارت کار صائمہ سلیم ہیں، جنہوں نے بصارت سے محرومی کے باوجود اپنی ذہانت اور محنت سے پاکستان کا نام روشن کیا۔
یہ بھی پڑھیے: بصارت سے محروم افراد کیسے تعلیم حاصل کرتے ہیں؟
صدر زرداری نے کہا کہ صائمہ سلیم حوصلے، عزم اور قابلیت کی علامت بن چکی ہیں، اور ہمیں ان جیسے افراد پر فخر ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر صدرِ پاکستان نے کہا:
‘آئیں ایک ایسا پاکستان بنائیں جہاں کوئی پیچھے نہ رہ جائے، کیونکہ قومی ترقی سب کے باہمی تعاون اور شمولیت سے ممکن ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بصارت سے محروم افراد سفید چھڑی صدر مملکت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بصارت سے محروم افراد سفید چھڑی صدر مملکت بصارت سے محروم افراد کی نے کہا کہ
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم