ملک کی بگڑتی معاشی صورتحال، نئی سیاسی جماعت میدان میں آگئی WhatsAppFacebookTwitter 0 15 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس)ملک کی بگڑتی ہوئی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئی سیاسی جماعت ’’پاسبان وطن پاکستان‘‘ نے باقاعدہ طور پر سیاسی میدان میں قدم رکھ دیا۔پارٹی کے چیئرمین شیخ مختار احمد اور مرکزی صدر محمد طاہر کھوکھر نے افتتاحی پریس کانفرنس سے خطاب کیا جبکہ قائدین نے ملک کو درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے لیے جامع منشور پیش کیا۔قائدین نے کہا کہ ہم پاکستان کے عوام کی امیدوں کا مرکز بنیں گے اور ہم محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔ مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ کریں گے، موجودہ پارلیمانی نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور ہم صدارتی نظام لانا چاہتے ہیں۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پارٹی کے چیئرمین شیخ مختار احمد اور مرکزی صدر محمد طاہر کھوکھر نے پارٹی کی افتتاحی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا وطنِ عزیز پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے جہاں مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، غربت نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، بے روزگاری نوجوانوں کی امنگیں نگل رہی ہے اور ملک مسلسل معاشی و سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حالات محض حادثاتی نہیں ہیں یہ ان لوگوں کی پیدا کردہ صورتحال ہے جو کئی دہائیوں سے اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہیں۔ یہ وہ عناصر ہیں جو جمہوریت کے نام پر خاندانی سیاست، جاگیردارانہ نظام، سرمایہ دارانہ تسلط اور دو جماعتی ساز باز کو تقویت دیتے رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ان حالات کو دیکھتے ہوئے، ہم نے ایک نئی سیاسی جماعت پاسبان وطن پاکستان کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جو اس قوم کی خاموش صداؤں مظلوموں کی آہوں، نوجوانوں کے ٹوٹے خوابوں اور بزرگوں کی مایوسیوں کا جواب بنے گی۔ یہ جماعت نہ کسی فرد کی جاگیر ہے نہ کسی خاندان کا ورثہ یہ جماعت قوم کے ہر فرد کی آواز ہے چاہے وہ کسان ہو، مزدور ہو، طالبعلم ہو، خواتین ہوں یا اقلیتیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ عوام قرضوں میں جکڑے جا رہے ہیں جبکہ حکمرانوں کے اثاثے بیرونِ ملک بڑھتے جا رہے ہیں، دو وقت کی روٹی عام آدمی کے لیے خواب بن چکی ہے مگر ایوانوں میں شاہی ضیافتیں جاری ہیں تعلیم، صحت اور روزگار جیسے بنیادی حقوق ایک خاص طبقے تک محدود ہو چکے ہیں۔ عدل و انصاف صرف طاقتور کے لیے رہ گیا ہے، غریب صرف تاریخ پر تاریخ سنتا ہے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے تھے ہم نے فیصلہ کیا کہ اب وقت ہے کھڑے ہونے کا آواز بلند کرنے کا، اور قوم کو ایک نیا سیاسی پلیٹ فارم دینے کا۔ پاسبان وطن پاکستان ایک اسلامی فلاحی جماعت ہے، جو قرآن و سنت کی روشنی میں پاکستان کو ایک خوددار، خودمختار، اور خوشحال اسلامی ریاست بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم اپنی اساس یعنی نظریہ پاکستان سے جُڑے نہیں رہیں گے نہ ترقی ممکن ہے اور نہ استحکام۔ ہمارا سیاسی وژن اور منشورہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ پارلیمانی نظام مکمل ناکام ہو چکا ہے، بار بار کی سیاسی خرید و فروخت، اتحادی بلیک میلنگ اور مفادات کی سیاست نے اس نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے، ہم صدارتی نظام کے حامی ہیں جہاں ایک مضبوط بااختیار اور جواب دہ صدر براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہو۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عدل و انصاف کا فوری نظام ہر شہری کو سستا فوری اور منصفانہ انصاف فراہم کرنا، عدالتی اصلاحات کے ذریعے مقدمات کے فیصلے مہینوں میں ممکن بنانا۔ سود سے پاک معیشت، پاکستان میں اسلامی معاشی نظام کا نفاذ، استحصالی بینکاری نظام کا خاتمہ، زکٰوۃ، وقف، بیت المال کے مؤثر استعمال سے فلاحی ریاست کی تشکیل دینی اور عصری تعلیم کا امتزاج فنی سائنسی، تحقیقی اداروں کا قیام تعلیم کو ہر بچے کے لیے لازم اور مفت بنانا۔ صحت عامہ دیہات سے شہروں تک معیاری اسپتالوں کا قیام ادویات کی قیمتوں میں کمی اور ان پر کنٹرول، ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی خواتین کو باوقار مقام دینا، تعلیم صحت ملازمت میں مساوی مواقع خواتین کے خلاف ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ۔ اقلیتوں کے حقوق اقلیتوں کے مذہبی و شہری حقوق کا مکمل تحفظ، ان کی عبادت گاہوں املاک اور زندگی کا تحفظ، احتساب کا مؤثر نظام، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، بلا امتیاز احتساب، بلدیاتی خود مختاری، مقامی حکومتوں کو مکمل با اختیار بنانا، اختیارات اور فنڈز کی نچلی سطح تک منتقلی۔ ماحول کا تحفظ ،شجرکاری مہمات، پانی کے ذخائر کی حفاظت صاف ستھرا پاکستان ہماری ترجیح ہے اور ہم شجرکاری کو فروغ دیں گے۔
رہنماؤں نے کہا کہ پاسبان وطن پاکستان کی خارجہ پالیسی واضح اور اصولی ہے، پاکستان کی خودمختاری مقدم ہے، کشمیر پر دو ٹوک مؤقف، ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لیے ہر عالمی فورم پر آواز بلند کریں گے۔ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم قِبل اول کی آزادی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ ہماری جدوجہد، ہمارا عہد، ہم پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہو، ہر شہری کو برابری کا حق ہوا، نصاف دروازے پر دستک دے اور نوجوانوں کے لیے نوکری، طلبہ کے لیے علم، بیماروں کے لیے علاج ہو جہاں ہر طبقے کو عزت، تحفظ، اور ترقی کے برابر مواقع حاصل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاسبان وطن پاکستان صرف ایک جماعت نہیں یہ قوم کی اجتماعی سوچ، قربانی اور امید کا نام ہے۔ ہم میدان میں اس عہد کے ساتھ اترے ہیں کہ ہم پاکستان کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔ ہم پاکستان سے مہنگائی، غربت، بیروزگاری کا خاتمہ کریں گے۔ ہم پاکستان کو ترقی یافتہ خوشحال باوقار اور اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔

مرکزی قائدین نے کہا کہ ملک میں موجودہ پارلیمانی نظام بری طرح ناکام ہو چکا ہے، بار بار کی سیاسی جوڑ توڑ، اقرباء پروری اور کرپشن، مورثی سیاست نے عوام کو انصاف ترقی اور خوشحالی سے محروم کر دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایک مضبوط بااختیار اور جواب دہ قیادت کو براہِ راست عوام منتخب کریں۔ سود پر مبنی معاشی نظام کو ختم کر کے اسلامی اصولوں پر مبنی معاشی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں جس میں ہر شہری کو معاشی تحفظ، روزگار، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات میسر ہوں گی۔

میڈیا کو اپنا منشور پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کا نظریہ پاکستان، عدل و مساوات، اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ جماعت کی اولین ترجیح ہے۔

پاسبان وطن پاکستان نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کا مشن پاکستان کو ایک اسلامی، فلاحی اور خود مختار ریاست بنانا ہے جہاں ہر شہری کو بلا تفریق تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف فراہم کیا جائے گا۔ خواتین کو باوقار مقام اور قومی ترقی میں برابر کا کردار دیا جائے گا۔ ہم پاکستان کے عوام کی امیدوں کا مرکز بنیں گے، ہم محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔ مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ کریں گے اور پاکستان کو ایک خود دار، خوشحال، اور اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاسبان وطن پاکستان ایک سیاسی تحریک نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی آواز ہے، وہ آواز جو برسوں سے دبی ہوئی تھی، اب ابھرنے جا رہی ہے، ہماری جماعت ہر پاکستانی کی آواز بنے گی۔ ہم پاکستان میں اسلام کے لیے اقدامات کرنا چاہتے ہیں، احتساب کا شفاف نظام بلاامتیاز احتساب کرپشن اور اقرباء کا خاتمہ، تعصبات کا خاتمہ، صوبائی لاثانی، مسلکی جماعتی بنیادوں پر تقسیم کی نفی اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی، مقامی حکومتوں کا موثر نظام، عوامی نمائندگی کو نچلی سطح پر پہنچانا اور بلدیاتی اداروں کو مکمل با اختیار بنانا اور ضلعی حکومتوں کو مضبوط کرنا ہماری جماعت کا مشن ہے۔

قائدین کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت پاسبان وطن پاکستان کا قومی اور بین الاقوامی طور پر پاکستان کا ویژن پاکستان کو خود مختار باوقار ریاست بنانا ہمارا مشن ہے، ہم خواتین کو قومی ترقی میں شامل کریں گے اور خواتین کو باوقار عزت و احترام دیں گے۔ ہماری جماعت اقلیتوں کا تحفظ اور ان کی مذہبی آزادی کا مکمل احترام کرے گی، ہماری جماعت کی خارجہ پالیسی بالکل واضع ہے، خومختار اور مضبوط محفوظ پاکستان ہے۔

پریس کانفرنس میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر امجد بھٹی، ڈپٹی سیکرٹری جنرل نبی شاہ، سیکرٹری مالیات عطاء اللہ مینگل، سیکرٹری اطلاعات رخشندہ تبسم، کے علاوہ سیکڑوں کارکنان بھی موجود تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک فوج نے چمن میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملوں کو ناکام بنا دیا، 20 طالبان ہلاک پاک فوج نے چمن میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے حملوں کو ناکام بنا دیا، 20 طالبان ہلاک پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی انتقال کرگئے دنیا بھارت کو سرحد پار دہشتگردی اور علاقائی عدم استحکام کا مرکز تسلیم کرتی ہے، آئی ایس پی آر مزید 4 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے سپرد، غزہ میں امدادی قافلوں کیلئے رفح بارڈر آج کھولا جائیگا افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر حملے میں ایلبرس میزائل سسٹم کے استعمال کا شبہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل دوبارہ شروع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نئی سیاسی جماعت

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے