۔10 سالہ منصوبے کے تحت ریلوے کیلیے10 ارب ڈالر مختص کیے جائیں‘ امیر العظیم
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-08-27
لاہور( نمائندہ جسارت ) سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم نے کہا ہے کہ حکومت دس سالہ منصوبہ کے تحت پاکستان ریلوے کے لیے دس ارب ڈالرمختص کرے۔ادارے کی بحالی پر توجہ دی جائے تو قومی معیشت بھی بحال ہوجائے گی۔ جماعت اسلامی ریلوے مزدور کو کبھی لاوارث نہیں چھوڑے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریلوے پریم یونین کے دفتر کے دورہ کے موقع پر مرکزی صدر پریم یونین شیخ محمد انور سے ملاقات کے دوران کیا۔ عاطف رزاق عاطف، عمران علی، ملک ندیم، نجیب، محسن علی، ندیم احمد و دیگر کارکنان بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امیر العظیم نے کہا کہ ریلوے ملک کا اہم ترین دفاعی، فلاحی اور رفاحی ادارہ اور وحدت کی علامت ہے۔ عوام کو سہولیات فراہم کرنے والا یہ ادارہ حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہے، مزدور نہیں 78سال سے مسلط حکمران اس تنزلی کے ذمہ دار ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب اور بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی کی وجہ سے ریلوے کو اربوں روپے کا نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ حکمران موٹرویز، ہائی ویز اور اورنج لائن کی طرح ریلوے کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرے۔ ریلوے کو فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے کوچز اور ٹریک تباہ ہورہاہے جس کے نتیجے میں آئے روز حادثات ہورہے ہیں۔ ریلوے کو جاپان، ہانگ کانگ کی طرز پر چلانا پڑے گا۔ خالی زمینوں پر ملٹی نیشنل کمپنیوں سے مل کر ٹاور قائم کیے جائیں۔ ریلوے کے ہسپتالوں، سکولوں اور کالونیوں کو اپ گریڈکرنا چاہیے۔ ترقی ہمیشہ جہدمسلسل سے ملتی ہے ۔امیرالعظیم نے کہا کہ جماعت اسلامی ریلوے مزدوروں اور پریم یونین کی پُشتی بان ہے۔ اجتماع عام کے بعد ریلوے کا قومی سطح کا پروگرام کریں گے جس سے امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن خطاب کریں گے۔ امیرالعظیم نے کہا کہ نومبر2025ء میں جماعت اسلامی کے اجتماع عام کے موقع پر ملک بھر سے قافلے آئیں گے۔ پریم یونین اُن کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی پریم یونین نے کہا کہ ریلوے کو
پڑھیں:
پنجاب کے بلدیاتی نظام کے خلاف جماعت اسلامی کا 7 دسمبر کو صوبہ گیر احتجاج کا اعلان
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب کے نئے بلدیاتی قانون کو سیاہ قانون قرار دیتے ہوئے 7 دسمبر کو صوبے بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے, اس دن ہونے والے احتجاج کے ساتھ،بدل دو نظام تحریک،کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا، جو ملک گیر پرامن مزاحمتی مہم کی شکل اختیار کرے گی۔
منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے فارم 47 کے ذریعے جو مقامی حکومتوں کا قانون منظور کیا ہے وہ عوامی نمائندگی کے بنیادی حق کو سلب کرتا ہے، اس نظام میں اختیارات منتخب نمائندوں کے بجائے افسر شاہی کو دے دیے گئے ہیں، جبکہ غیرجماعتی الیکشن کے ذریعے ہارس ٹریڈنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے،شریف خاندان صوبے پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے گریزاں ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اس قانون کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کرے گی جبکہ تمام بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے،بدل دو نظام تحریک کے تحت عوامی ریفرنڈم، دستخطی مہم، دھرنے اور اسمبلیوں کے گھیراؤ سمیت تمام پرامن ذرائع اختیار کیے جائیں گے، جماعت اسلامی کرپشن، مہنگائی، امریکی و آئی ایم ایف کی غلامی، تعلیمی بحران، امن و امان کے بگاڑ اور غزہ کی صورتحال پر حکومتی خاموشی کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتی رہے گی۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے اجتماع عام کی حالیہ کامیابی کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد نے مینار پاکستان پر جمع ہوکر فرسودہ و ظالمانہ نظام کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا، عالمی وفود کی شرکت نے بھی ثابت کیا کہ جماعت اسلامی ایک نظریاتی، منظم اور عالمی ویژن رکھنے والی جماعت ہے۔
صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں انہوں نے پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ کو آزادی اظہار پر حملہ قرار دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی آئین کے مطابق پرامن احتجاج کا حق رکھتی ہے،نواز شریف اور ان کا خاندان ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے اقتدار میں آیا، حتیٰ کہ گزشتہ انتخابات میں 70 ہزار ووٹ بھی مقتدر حلقوں کی مدد سے دیے گئے۔