پی سی بی ویمنز انڈر 19 ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ اسٹرائیکرز نے جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسٹرائیکرز نےکانکرز کو 4 وکٹوں سے مات دے کر پی سی بی ویمنزانڈر19 ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ جیت لیا۔ نیشنل اسٹیڈیم پر کھیلے جانے والے15لاکھ روپے انعامی رقم کے ایونٹ کا مقصد دسمبر میں دورہ بنگلا دیشں کے لیے پاکستان انڈر19 ویمن کرکٹ ٹیم کے لیے ممکنہ کھلاڑیوں کا انتخاب تھا ایونٹ میں بہترین کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کھلاڑی اگلے ماہ ہائی پرفارمنس کیمپ میں شرکت کریں گی۔
تفصیلات کے مطابق بدھ کو نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں پہلے بیٹنگ کی دعوت پرکانکررز کی ٹیم 4 وکٹوں پر91 رنز ہی بنا سکی، کپتان سمیعہ افسر 32 رنز کے ساتھ نمایاں رہیں،نرجس بی بی نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں اسٹرائیکرز نے آسان ہدف6 وکٹیں گنوا کر 16.
رنر اپ ٹیم کی کپتان سمعیہ افسر نے پانچ لاکھ روپے کا انعام وصول کیا۔سمیعہ افسر نے 8میچز میں 122.07 کے اسٹرائیک ریٹ سے 271 رنز بناکر ایونٹ کی بہترین بیٹر کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
فاتح ٹیم کی نرجس بی بی 7 میچزمیں 11 وکٹیں حاصل کر کے ایونٹ کی بہترین بولر رہیں۔فاتح ٹیم کی اقصیٰ حبیب پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار پائیں۔کومل خان نے ٹورنامنٹ کی بہترین وکٹ کیپر کا ایوارڈ حاصل کیا۔
تقریب تقسیم انعامات میں سندھ حکومت کے سیکریٹری اسپورٹس منور علی مہسیر اور پی سی بی ویمن ونگ کی چیئر پرسن رافعہ حیدر نے انعامات تقسیم کیے۔
اس موقع پر پی سی بی ویمن سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین اسد شفیق اور سلیکٹر سیدہ بتول فاطمہ و دیگر بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی سی بی
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :