سہیل آفریدی کو کم عمر ترین وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
محمد سہیل آفریدی کو سابقہ قبائلی علاقہ جات سے پہلا وزیراعلیٰ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوگا۔ قبائلی علاقہ جات کے صوبے میں انضمام کے بعد وہ ضلع خیبر سے منتخب ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے نامزد وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو صوبے کے سب سے کم عمر ترین وزیراعلیٰ کا اعزاز بھی حاصل ہوگا ساتھ ہی وہ قبائلی علاقہ جات سے بننے والے پہلے وزیر اعلیٰ بھی ہوں گے۔ اسلام ٹائمز کے مطابق ان سے قبل امیر حیدر ہوتی نے 37 سال کی عمر میں صوبے کی وزارت اعلیٰ سنبھالی تھی تاہم اب سہیل آفریدی 36 سال کی عمر میں وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔ محمد سہیل آفریدی کو سابقہ قبائلی علاقہ جات سے پہلا وزیراعلیٰ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوگا۔ قبائلی علاقہ جات کے صوبے میں انضمام کے بعد وہ ضلع خیبر سے منتخب ہوئے اور وہیں کے ڈومیسائل پر اب قبائلی علاقہ جات سے پہلے وزیراعلیٰ ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قبائلی علاقہ جات سے سہیل ا فریدی کو حاصل ہوگا کا اعزاز
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔