سہیل آفریدی کو کم عمر ترین وزیراعلیٰ کا اعزاز بھی حاصل ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا کے نامزد وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو صوبے کے سب سے کم عمر ترین وزیراعلیٰ کا اعزاز بھی حاصل ہوگا ساتھ ہی وہ قبائلی علاقہ جات سے بننے والے پہلے وزیر اعلیٰ بھی ہوں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ان سے قبل امیر حیدر ہوتی نے 37 سال کی عمر میں صوبے کی وزارت اعلیٰ سنبھالی تھی تاہم اب سہیل آفریدی 36 سال کی عمر میں وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالیں گے۔
محمد سہیل آفریدی کو سابقہ قبائلی علاقہ جات سے پہلا وزیراعلیٰ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوگا۔ قبائلی علاقہ جات کے صوبے میں انضمام کے بعد وہ ضلع خیبر سے منتخب ہوئے اور وہیں کے ڈومیسائل پر اب قبائلی علاقہ جات سے پہلے وزیراعلیٰ ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قبائلی علاقہ جات سہیل ا فریدی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔