Express News:
2026-06-03@03:14:22 GMT

پی ٹی آئی کی داخلی کشمکش

اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT

پی ٹی آئی اپنے بانی کے جیل میں ہونے کی وجہ سے داخلی انتشار اور کشمکش کا شکار ہے ۔ پی ٹی آئی کی قیادت موجود مسائل سے نمٹنے میں ناکام نظر آتی ہے۔اول یا تو اس موجودہ قیادت کے پاس یہ صلاحیت اور قابلیت ہی نہیں ہے کہ وہ پارٹی اور بانی کو موجودہ مشکلات سے نکال سکیں ۔دوئم ،کیونکہ پارٹی پر کنٹرول بانی کا ہے اور وہی فیصلے کرکے موجودہ قیادت کے لیے مسائل پیدا کررہے ہیں ۔

سوئم، پارٹی کی موجودہ لیڈر شپ کیونکہ سیاسی طور پر تقسیم ہے اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو یہ ٹکراؤ مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔چہارم، بانی پی ٹی آئی اور ان کا حامی دھڑا اسٹیبلیشمنٹ مخالف بیانیے پر کھڑا ہے جب کہ پارٹی میں ایک بڑا دھڑا اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر مفاہمت چاہتا ہے ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اس وقت اپنی بہن علیمہ خان کو ہی اپنی سیاست کا ترجمان بنایا ہوا ہے اور وہی ان کا سیاسی موقف میڈیا کے سامنے پیش کررہی ہیں۔علیمہ خان باہر بیٹھی سیاسی قیادت کے مقابلے میں زیادہ سرگرم اور فعال نظر آتی ہیں اور پارٹی کی سطح پر ان کی پذیرائی بھی شامل ہے۔

حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور علیمہ خان کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ علی امین گنڈا پور نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرکے پارٹی کے داخلی بحران کی ساری ذمے داری علیمہ خان پر ڈالی ہے ۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ہیں اور پارٹی کی قیادت پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں جو نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

جب کہ یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی لیڈرزکو اسٹیبلیشمنٹ سے رابطے ختم کرنے کا پیغام دیا ہے۔ان کے بقول اگر کوئی ان سے رابطہ کرے تو ان کا موقف یہ ہونا چاہیے کہ بات چیت براہ راست بانی پی ٹی آئی سے کی جائے۔ بانی پی ٹی آئی کو اس بات کا گلہ ہے کہ اب تک جن بھی لوگوں نے اسٹیبلیشمنٹ سے رابطے کیے ہیں ان سے انھیں کوئی ریلیف نہیں مل سکا اور نہ ہی پی ٹی آئی کو سیاسی راستہ دیا جارہا ہے تو ایسے میں پس پردہ رابطوں کا کوئی فائدہ نہیں ۔

پی ٹی آئی کی موجودہ سیاسی قیادت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو چھوڑیں، وہ جیلوں میں قید رہنماؤں میں سے کسی کو بھی قانونی ریلیف نہیں دلوا سکے۔ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت لاہور کی جیل میں قید اہم راہنماؤں سے ملاقات کرنا بھی گوارا نہیں کرتی اور دیگر جیلوں میں بند اسیران سے بھی کوئی ملنے کے لیے تیار نہیں ۔ موجودہ قیادت نہ تو پارٹی کو منظم کرسکی ،نہ کوئی بڑی عوامی تحریک چلاسکی اور نہ ہی پارٹی کے لیے کوئی سیاسی راستہ نکال سکی ۔ بلکہ سب ہی ایک دوسرے کے خلاف لنگوٹ کس کر میدان میں موجود ہیں ۔پشاور کے حالیہ جلسہ میں علی امین گنڈا پور کے خلاف جو کچھ ہوا، وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ بیرسٹر گوہر نے علیمہ خان پر علی امین گنڈا پور کے تمام الزامات کی تردید کی ہے ۔

پی ٹی آئی کی موجودہ پارلیمانی اور باہر بیٹھی قیادت کے بقول بانی پی ٹی آئی کے سخت بیانات اور ان پر الزامات کی سیاست کی وجہ سے مفاہمت کے دروازے بند ہوگئے ہیں ۔ اس طبقہ کے بقول اگر بانی پی ٹی آئی کوئی متبادل بیانیہ بنائیں اور تنقید کو حکومت تک محدود رکھیں تو ہمیں کسی نہ کسی سطح پر ریلیف مل سکتا ہے۔

ایک گروپ حکومت سے مذاکرات کا حامی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ کن ایشوز پر معاملات طے کر سکتی ہے۔ مقدمات کے حوالے سے حکومت کوئی ریلیف نہیں دے سکتی ہے ۔ ایسے میں بانی اور اسیر لیڈروں کو کیا فائدہ ۔ پی ٹی آئی کے پارلیمانی گروپ کی مزاحمتی سیاست میں ناکامی اور کسی بڑی احتجاجی تحریک کو پیدا نہ کرنا ، پارٹی کے لیے اور زیادہ مشکلات پیدا کر رہے ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈا پور بانی پی ٹی آئی موجودہ قیادت پی ٹی آئی کو پی ٹی آئی کی کی موجودہ علیمہ خان قیادت کے پیدا کر کے لیے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا