بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی میں 25 فیصد کمی، وجوہات کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حکومت کے ایک تازہ سروے کے مطابق ملک میں ہاتھیوں کی تعداد پچھلے تخمینے کے مقابلے میں تقریباً ایک چوتھائی کم ہو گئی ہے۔
جنگلی حیات کے سرکاری ادارے وائلڈ لائف انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں جنگلی ہاتھیوں کی موجودہ تعداد 22 ہزار 446 ہے، جو 2017 میں لگائے گئے 29 ہزار 964 کے تخمینے سے تقریباً 25 فیصد کم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زخمی ہاتھی نے گاؤں میں مچائی دھوم، دکانیں اور سڑکیں متاثر
یہ سروے جدید ڈی این اے تجزیاتی نظام کے تحت کیا گیا، جس میں 21 ہزار سے زائد گوبر کے نمونوں کا جینیاتی تجزیہ کیا گیا، ساتھ ہی کیمرہ ٹریپس اور 6 لاکھ 67 ہزار کلومیٹر پر محیط فیلڈ سرویز بھی شامل تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ہاتھیوں کی موجودہ تقسیم ان کے تاریخی مسکن کے صرف 3.
ماہرین کے مطابق بجلی کے کرنٹ اور ریل گاڑیوں سے ٹکراؤ ہاتھیوں کی ہلاکت کی نمایاں وجوہات ہیں، جبکہ کان کنی اور شاہراہوں کی تعمیر ان کے قدرتی مسکن کو مزید تقسیم کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ویسٹرن گھاٹ (کرناٹک، تمل ناڈو اور کیرالا) اب بھی ہاتھیوں کا اہم گڑھ ہیں، جہاں تقریباً 12 ہزار ہاتھی پائے جاتے ہیں، تاہم وہاں بھی آبادی کے درمیان رابطے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح شمال مشرقی ریاستوں، خصوصاً آسام اور برہم پتر کے میدانوں میں 6,500 سے زائد ہاتھی موجود ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہاتھیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ ‘رابطہ راہداریاں مضبوط بنانا، مسکن کی بحالی، بہتر نگرانی اور ترقیاتی منصوبوں کے اثرات کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ان نرم دل دیو ہیکل جانوروں کا وجود محفوظ رہ سکے۔’
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جانور جنگلی حیات ماحولیات ہاتھیذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنگلی حیات ماحولیات ہاتھی ہاتھیوں کی کے مطابق
پڑھیں:
ہفتہ وارمہنگائی،14 اشیاء مہنگی، 12 کے نرخوں میں کمی ریکارڈ، ادارہ شماریات
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ملک میں ہفتہ وار مہنگائی میں 0.73 فیصد اضافہ،سالانہ بنیاد پرمہنگائی 4.32 فیصد تک پہنچ گئی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کےمطابق گزشتہ ہفتے14 اشیائےضروریہ مہنگی، 12 کے نرخوں میں کمی ریکارڈ کی گئی،25 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کےمطابق ٹماٹر 28 فیصد،پیاز 10فیصد، آلو 4.58 فیصد تک سستے ہوئے، نمک، دال چنا، لہسن، انڈے، آٹا بھی سستی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔
رپورٹ کےمطابق دال مونگ،گھی،کوکنگ آئل،خشک دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،چینی،گڑ،بیف، بجلی، ایل پی جی،سگریٹ،لکڑی بھی مہنگی ہوئی،مختلف شہروں میں چینی 179 سے 220 روپےکلو میں فروخت ہورہی ہے،چھوٹے طبقے کیلئے بجلی ٹیرف میں 11 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔