خواتین اجتماع عام کو کامیاب بنانے کیلیے جدوجہدتیز کریں‘کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی صوبہ سندھ کا اجلاس ناظمہ صوبہ رخشندہ منیب کی زیر صدارت قبا آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں 21،22،23 نومبر کو لاہور میں ہونے والے جماعت اسلامی کے سہ روزہ اجتماعِ عام کی تیاریوں، منصوبہ بندی اور اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں امیر صوبہ سندھ کاشف سعید شیخ نے خصوصی شرکت کی اور کارکنان کو ہدایات دیں کہ اجتماعِ عام کو کامیاب بنانے کے لیے منظم، مثبت اور پرجوش انداز میں کام کریں تاکہ یہ اجتماع ملک میں حقیقی تبدیلی کا پیغام بن سکے۔ناظمہ صوبہ رخشندہ منیب نے کہا کہ اجتماعِ عام، تحریک اسلامی کی دعوت اور پیغام کو عوام تک پہنچانے کا اہم موقع ہے، اس لیے ہر ضلع میں خواتین کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عذرا جمیل اجتماعِ عام کی نگراں جبکہ عائشہ ظہیر اور شگفتہ ابراہیم نائب نگراں کے طور پر اپنی ذمے داریاں انجام دیں گی۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماعِ عام 21، 22 اور 23 نومبر کو مینارِ پاکستان، لاہور میں منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔