Jasarat News:
2026-07-24@08:10:26 GMT

جماعت اسلامی کی سینئر صحافی طفیل رند کے قتل کی مذمت

اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251009-08-11
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے سیکرٹری اطلاعات مجاہدچنا نے ضلع گھوٹکی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ماتھیلو میں مقامی اخبار کے صحافی اور میرپور ماتھیلو پریس کلب کے جنرل سیکرٹری طفیل رند کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کرکے آئندہ اس طرح کے واقعات کا سدباب صحافیوں کو تحفظ اور لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ صوبہ سندھ صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بنتا جارہا ہے صحافیوں کو ہراساں جھوٹے مقدمات معمول بنتے جارہے ہیں ،سکھرڈویژن میں گزشتہ 2سال کے دوران4 صحافیوں کا قتل صحافت دشمنی اوراظہار رائے کی آزادی کو دبانے کی کوشش ہے یہ صورتحال ملک اورصوبہ سندھ میں ٓزادی اظہار کے دعویدارحکمرانوں کے لیے لمحہ فکر ہے۔انہوں نے کہاکہ شہید نصراللہ گڈانی کا تعلق بھی اسی ضلعے سے تھا ،جان محمد مہر سے لے کر طفیل رند کے سفاکانہ قتل تک صحافی برادری میں سخت خوف و ہراس پیداہوگیا ہے۔مرادعلی شاہ حکومت سندھ میں صحافیوں کو تحفظ اورقاتلوںکو پکڑکرکیفرکردار تک پہنچانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔صوبائی رہنما نے سندھ حکومت سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیرجانبدارنہ تحقیقات کرکے ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی