جماعت اسلامی کی سینئر صحافی طفیل رند کے قتل کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251009-08-11
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے سیکرٹری اطلاعات مجاہدچنا نے ضلع گھوٹکی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ماتھیلو میں مقامی اخبار کے صحافی اور میرپور ماتھیلو پریس کلب کے جنرل سیکرٹری طفیل رند کے سفاکانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کرکے آئندہ اس طرح کے واقعات کا سدباب صحافیوں کو تحفظ اور لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ صوبہ سندھ صحافیوں کے لیے مقتل گاہ بنتا جارہا ہے صحافیوں کو ہراساں جھوٹے مقدمات معمول بنتے جارہے ہیں ،سکھرڈویژن میں گزشتہ 2سال کے دوران4 صحافیوں کا قتل صحافت دشمنی اوراظہار رائے کی آزادی کو دبانے کی کوشش ہے یہ صورتحال ملک اورصوبہ سندھ میں ٓزادی اظہار کے دعویدارحکمرانوں کے لیے لمحہ فکر ہے۔انہوں نے کہاکہ شہید نصراللہ گڈانی کا تعلق بھی اسی ضلعے سے تھا ،جان محمد مہر سے لے کر طفیل رند کے سفاکانہ قتل تک صحافی برادری میں سخت خوف و ہراس پیداہوگیا ہے۔مرادعلی شاہ حکومت سندھ میں صحافیوں کو تحفظ اورقاتلوںکو پکڑکرکیفرکردار تک پہنچانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔صوبائی رہنما نے سندھ حکومت سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیرجانبدارنہ تحقیقات کرکے ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز