صحافی طفیل رند قاتلانہ حملے میں جاں بحق، خوف سے بھتیجی بھی چل بسی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ نے گھوٹکی میں صحافی طفیل رند کے قتل پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں پر حملے آزادی صحافت پر حملے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ اسلام ٹائمز۔ گھوٹکی میں میرپور ماتھیلو پریس کلب کے جنرل سیکرٹری طفیل رند قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہو گئے جبکہ موقع پر موجود بھتیجی خوف سے جان کی بازی ہار گئی۔ پولیس کے مطابق طفیل رند بچوں کو سکول چھوڑنے جا رہے تھے کہ ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی، طفیل رند پر میر پور ماتھیلو کے علاقے جروار روڈ مسو واہ پر فائرنگ کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے طفیل رند جاں بحق ہو گئے، ان کے جسد خاکی کو ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور ماتھیلو منتقل کر دیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گھوٹکی میں صحافی طفیل رند کے قتل پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں پر حملے آزادی صحافت پر حملے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔ علاوہ ازیں چچا پر فائرنگ ہونے کے خوف سے 10 سالہ بھتیجی بھی جان کی بازی ہار گئی، بچی رینا اپنے چچا کے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر سکول جا رہی تھی کہ ملزمان نے فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق چچا پر فائرنگ ہونے کے بعد بچی شدید خوف زدہ تھی اور وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی اور جان کی بازی ہار گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر فائرنگ طفیل رند پر حملے
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا