شرجیل میمن سندھ میں الیکٹرک اور پنک ٹیکسی سروس منصوبوں کی جلد تکمیل کیلیے متحرک
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن الیکٹرک ٹیکسی سروس اور پنک ٹیکسی سروس منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت کے لیے مسلسل متحرک ہیں جب کہ صوبے میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کے لیے انہوں نے اپنی کاوشیں مزید تیز کردی ہیں۔
معروف ملٹی نیشنل برقی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی کے وفد نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات کی، ملاقات میں کمپنی کے نمائندوں نے اپنی برقی گاڑیوں کے ماڈلز، خصوصیات اور ٹیکنالوجی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
ملاقات میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ایم ڈی کنول نظام بھٹو اور سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو بھی شریک تھے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومتِ سندھ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جدت لانا چاہتی ہے، سندھ میں برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو صاف، محفوظ اور پائیدار سفری سہولیات میسر آسکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سندھ میں برقی ٹرانسپورٹ کا مضبوط نظام قائم ہو، الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے چارجنگ اسٹیشنز، مینٹیننس سینٹرز اور دیگر بنیادی انفرااسٹرکچر کی تعمیر میں بھی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت سندھ نجی شعبے کے ساتھ مل کر ایک ایسا فریم ورک تشکیل دے رہی ہے جس سے سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون اور تحفظ فراہم کیا جائے گا، حکومت سندھ نے سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہترین موقع ہے، دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاروں کو دس سالہ ٹیکس استثنا سمیت متعدد مراعات دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی کمپنیاں سندھ آئیں اور یہاں سرمایہ کاری کریں، سندھ میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بین الاقوامی معیار کی سروسز متعارف کروانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہمارا ہدف ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے تمام بڑے شہروں میں الیکٹرک ٹیکسی سروس جلد از جلد شروع کی جائے، تاکہ عوام کو جدید اور ماحول دوست سفری سہولیات میسر آئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن سرمایہ کاروں ٹیکسی سروس کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔