Jasarat News:
2026-06-03@01:07:00 GMT

مردہ معیشت سے ٹیکس وصول نہیں کیا جاسکتا ، فراز الرحمن

اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(بزنس رپورٹر) پاکستان بزنس گروپ (PBGO) کے بانی اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے سابق صدر فراز الرحمن نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کاروباری ماحول غیر یقینی، غیر مستحکم اور سرمایہ کار دشمن بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں کاروبار دشمن بن چکی ہیں، ہر نئے فیصلے کے نتیجے میں صنعتکاروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب کاروبار ہی نہیں چل رہے تو ٹیکس کہاں سے آئے گا؟ مردہ معیشت سے ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا۔فراز الرحمٰن نے کہا کہ بلند و بالا معاشی اہداف مقرر کرنا آسان ہے مگر ان اہداف کی کوئی حیثیت نہیں جب معیشت سانسیں لینے کے قابل ہی نہ رہے۔ ملک میں انٹرپرینیورشپ کا خاتمہ ہو چکا ہے، صنعتیں بند ہو رہی ہیں، اسٹارٹ اپس ملک چھوڑ رہے ہیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح مجروح ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں بڑے بڑے دعوے محض نعرے بن کر رہ جاتے ہیں، ضرورت عملی اقدامات اور پالیسیوں کے تسلسل کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی باتیں کرنا بے معنی ہے جب مقامی سرمایہ کار ہی خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں، وہ بھی پالیسیوں کے عدم تسلسل، سرکاری رکاوٹوں اور عدم سہولت کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ جب تک مقامی کاروباری طبقہ اور سرمایہ کار محفوظ اور پْراعتماد محسوس نہیں کرے گا، بیرونی سرمایہ کاری لانا نا ممکن رہے گا۔فراز الرحمٰن نے کہا کہ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اچھی طرز حکمرانی چاہتی ہے یا کاروبار کا گلا گھونٹنا چاہتی ہے۔ اگر ملک میں محفوظ، مستحکم اور کاروبار دوست ماحول فراہم نہیں کیا گیا تو معیشت کبھی سنبھل نہیں سکے گی۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور سرمایہ سرمایہ کا کہا کہ

پڑھیں:

سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا

سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔

فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ 

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ