سربراہ جے یو آئی مولانافضل الرحمن نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کی ہے۔ مولانافضل الرحمن نےپی ٹی آئی پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی اورسینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز محمودخان اچکزئی اورراجہ علامہ ناصر عباس کو بنایا۔ مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ ان کےلیڈرکواپنی جماعت کے لوگوں پراعتبارنہیں یا وہ انکو اس قابل ہی نہیں سمجھتے؟ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ کے پی نے علی امین گنڈاپور نے صوبہ برباد کر دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں علی امین گنڈاپورکو ایک دن بھی نہیں رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ امن معاہدے پرحماس کا ردعمل سفارتی معیارپرپورااترتاہے۔ عالمی امن کے حوالے سے حماس نے عالمی منصوبے کی حمایت کی ہے۔ اس منصوبے کی مزیدشقوں پربات ہوسکتی ہے کیونکہ دنیاکواس منصوبے پربہت سے حوالوں پراعتراض ہے۔ ایک شخص کی زبان فارمولہ ہے یا جنیواکنونشن اورانسانی حقوق کے قوانین؟ سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ ایمل ولی خان کی تقریرپرجیساردعمل آیاوہ جمہوری اقدارپرپورانہیں اترتا۔ اس تقریرکے قانونی پہلوؤں پر قانونی ماہرین ہی بہتربتاسکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان