لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کے مناظرے کے چیلنج کو قبول کرلیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمارے اتحادی ہیں، ہم ان کا احترام کرتے ہیں، لیکن اگر وہ جارحانہ بات کریں گے تو جواب بھی اسی انداز میں دیا جائے گا، پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی ہونے کا حق ادا کیا ہے، کسی بھی صوبے میں قدرتی آفت آئی تو پنجاب نے مدد کی مگر جب پنجاب مشکل میں آیا تو دوسروں نے سیاست کی،  وزیراعلیٰ پنجاب کو امید نہیں تھی کہ مشکل وقت میں دیگر صوبوں کی جانب سے ایسا رویہ اختیار کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب کے دوران تین دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باوجود پنجاب حکومت کی بروقت تیاری سے بڑے پیمانے پر نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ ملتان اور مظفرگڑھ میں مشکلات کے باوجود انتظامیہ نے بھرپور کام کیا جبکہ 25 اضلاع میں معمولی نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

عظمیٰ بخاری نے  کہاکہ پنجاب میں گھر یا سولر پروگرام فروخت نہیں ہورہا، بعض سیاسی مخالفین کے 90 ہزار گھروں کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 47 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور 17 اکتوبر سے متاثرین کو چیک کی تقسیم کا عمل شروع کیا جائے گا۔ 400 دیہات میں سروے مکمل ہوچکا ہے۔

وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے سول ڈیفنس ملازمین کی تنخواہوں میں 15 ہزار روپے اضافے کا اعلان کیا ہے، جب کہ غیر ضروری اخراجات میں کٹوتی کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ندیم افضل چن نے سیلاب متاثرین کے لیے کچھ نہیں کیا مگر بے بنیاد الزامات لگانے میں پیش پیش ہیں،پنجاب کا مقدمہ لڑنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم یہ مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کا حال آدھا تیتر آدھا بٹیروالا ہے، کراچی اور لاہور کا فرق کوئی راکٹ سائنس نہیں، سب کے سامنے ہے،آپ کے پاس سندھ کی ترقی کے لیے دکھانے کو کچھ نہیں، آپ نے ساری سیاست پنجاب کے کندھے پر چڑھ کر کی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میں آپ کو بہاولپور، ملتان، لودھراں، رحیم یار خان اور ڈی جی خان لے جانا چاہتی ہوں تاکہ آپ کو پنجاب کی ترقی دکھا سکوں۔ بدلے میں آپ مجھے کشمور، نواب شاہ اور گڑھی خدا بخش دکھائیں کہ وہاں آپ نے کیا کیا ہے۔

.