پشاور ہائیکورٹ کا سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
حکمنامے میں کہا گیا ہے درخواست گزار کے مطابق سرکاری وسائل کا استعمال آرٹیکل 4، 5 اور 25 کے خلاف ہے، سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال قومی خزانےکا ضیاع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور ہائیکورٹ نے سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم دیدیا۔ ریلیوں، جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری مشینری کے استعمال کے خلاف درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ میں ہوئی۔ درخواست گزارکے مطابق صوبائی حکومت جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری وسائل کا استعمال کرتی ہے، فریقین سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری ملازمین اور مشینری کا استعمال کرتے ہیں، احتجاج میں استعمال ہونے والی صوبائی حکومت کی مشینری اب بھی وفاق کے قبضے میں ہے۔
عدالت نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم دیدیا۔ عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ جلسوں اور ملین مارچ میں سرکاری وسائل کا استعمال نہ کیا جائے۔ پشاور ہائیکورٹ کے حکمنامے میں کہا گیا ہے درخواست گزار کے مطابق سرکاری وسائل کا استعمال آرٹیکل 4، 5 اور 25 کے خلاف ہے، سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال قومی خزانےکا ضیاع ہے۔ عدالت کا کہنا تھا ریاست سرکاری اور سیاسی تقریبات میں تفریق کرے، سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال پشاور ہائیکورٹ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔