عارضہ قلب سمیت دیگر امراض میں مبتلا افراد حج نہیں کرسکیں گے، ڈپورٹ کرنےکی پالیسی بھی لاگو
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
سعودی حکومت نے بیمار عازمین پر حج2026 کی پاپندی عائد کرتے ہوئے ڈپورٹ کرنے کی پالیسی بھی لاگو کردی۔
سعودی وزارت مذہبی امور نے کہا کہ بیمار عازمین کو سعودی عرب واپس وطن بھیج دے گا، واپسی کا خرچہ عازمین حج خود ادا کریں گے، بیمار عازم کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے ڈاکٹرز کے خلاف بھی کارروائی بھی ہوگی۔
سعودی وزارت صحت کی ہدایات کے مطابق عازمین حج 2026 کیلئے طبی شرائط عائد کی گئی ہیں۔
سعودی وزارت صحت نے کہا کہ گردوں کے امراض، ڈائیلاسز کے مریضوں کو حج 2026 کی اجازت نہیں، سعودی وزارت صحت نے دل کے امراض کا شکار مریض جو مشقت کے بھی قابل نہ ہوں ان پر بھی حج کی پاپندی لگادی۔
پھیپھڑوں اور جگر کی بیماری کے حامل مریضوں پر بھی پاپندی ہوگی، شدید اعصابی یا نفسیاتی امراض، کمزور یاداشت، شدید معذوری اور ڈیمنشیا کا شکار افراد پر بھی سعودی حکومت نے حج پر پابندی لگادی۔
شدید بڑھاپے یا الزائمنز اور رعشہ کے مریض پر بھی پاپندی عائد کردی گئی، حاملہ خواتین، کالی کھانسی، تپ دق، وائرل ہیمرج بخار کے مریض بھی حج 2026 نہیں کرسکیں گے۔
کینسر کے مریضوں پر بھی حج کی پابندی عائد کردی گئی، وزارت مذہبی امور نے کہا کہ حج پر روانگی سے قبل میڈیکل افسر حج پر روانگی سے روکنے کا مجاز ہوگا۔
وزارت مذہبی امور نے کہا کہ سعودی حکام کی مانیٹرنگ ٹیمیں عازم حج کے فٹنس سرٹیکیٹ کی درستی کی تصدیق کریں گی، مقررہ بنیادی صحت کے حامل افراد ہی سفر حج پر مقامات روانہ ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔