صحافیوں کی فلاح حکومت سندھ کی ترجیح ہے، ناصر حسین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیربلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ صحافیوں کی فلاح و بہبود حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے، کراچی پریس کلب کے رہائشی منصوبوں کے ترقیاتی کاموں کے لیے ٹینڈرز جاری کر دیے گئے ہیں اور یہ تمام کام پریس کلب کی نگرانی میں مکمل کیے جائیں گے۔ انہوں نے کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری سہیل افضل خان، خازن عمران ایوب، جوائنٹ سیکرٹری محمد منصف اور گورننگ باڈی کے ارکان سے ملاقات میں کہا کہ نئے ممبران کے لیے پلاٹوں کی قرعہ اندازی اسی ماہ کر دی جائے گی، جب کہ ایم ڈی اے میں 80۔20 فارمولے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر صحافی برادری کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پریس کلب صوبے کے صحافیوں کا نمائندہ ادارہ ہے، جو آزادی اظہار اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے وزیر بلدیات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ رہائشی اسکیموں کی منظوری اور ترقیاتی منصوبوں کی بحالی سے صحافیوں کو حقیقی ریلیف ملے گا۔
ش
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پریس کلب کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔