خواتین اجتماع عام کو کامیاب بنانے کیلیے جدوجہدتیز کریں‘کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251009-08-22
کراچی (اسٹاف رپورٹر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی صوبہ سندھ کا اجلاس ناظمہ صوبہ رخشندہ منیب کی زیر صدارت قبا آڈیٹوریم میں منعقد ہوا، جس میں 21،22،23 نومبر کو لاہور میں ہونے والے جماعت اسلامی کے سہ روزہ اجتماعِ عام کی تیاریوں، منصوبہ بندی اور اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں امیر صوبہ سندھ کاشف سعید شیخ نے خصوصی شرکت کی اور کارکنان کو ہدایات دیں کہ اجتماعِ عام کو کامیاب بنانے کے لیے منظم، مثبت اور پرجوش انداز میں کام کریں تاکہ یہ اجتماع ملک میں حقیقی تبدیلی کا پیغام بن سکے۔ناظمہ صوبہ رخشندہ منیب نے کہا کہ اجتماعِ عام، تحریک اسلامی کی دعوت اور پیغام کو عوام تک پہنچانے کا اہم موقع ہے، اس لیے ہر ضلع میں خواتین کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عذرا جمیل اجتماعِ عام کی نگراں جبکہ عائشہ ظہیر اور شگفتہ ابراہیم نائب نگراں کے طور پر اپنی ذمے داریاں انجام دیں گی۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کا اجتماعِ عام 21، 22 اور 23 نومبر کو مینارِ پاکستان، لاہور میں منعقد ہوگا، جس میں ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔