ریاض 2026 میں عالمی میڈیا اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مرکز بنے گا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
سعودی دارالحکومت (ریاض) میں FOMEX 2026 کے عنوان سے میڈیا اور ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی عالمی نمائش منعقد ہوگی، جو دنیا بھر کی ممتاز کمپنیوں، ماہرین، اور تخلیقی صنعتوں کو ایک جگہ اکٹھا کرے گی۔ یہ ایونٹ سعودی میڈیا فورم کے تحت منعقد ہو رہا ہے اور اسے خطے میں میڈیا، ابلاغ، اور تخلیقی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
نمائش 4 تا 6 فروری 2026 کو ریاض میں ہوگی، جس میں 6 بڑے موضوعاتی زونز شامل ہوں گے۔ اس موقع پر میڈیا پروڈکشن، براڈکاسٹنگ، آڈیو، ویڈیو، کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل انوویشن سے متعلق جدید ترین مصنوعات اور حل پیش کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے سعودی عرب میں جدید ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا ایونٹ ’لیپ 2025‘
FOMEX 2026 کا مقصد عالمی سطح پر ابلاغی صنعتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا، نئے رجحانات کو اجاگر کرنا، اور سعودی عرب کو میڈیا ٹیکنالوجی کے مستقبل کی قیادت کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر مستحکم کرنا ہے۔
نمائش میں شرکت کرنے والی نمایاں عالمی کمپنیاں تھامسن رائٹرز، ریڈیل، لاوو، آری، وِزلِنک، شور، زیرو ڈینسٹی، ویڈینڈم، فوجی نون، اور بی ایس براڈکاسٹ ہیں جو نشر و اشاعت، آڈیو و ویڈیو پروڈکشن، اور براڈکاسٹنگ کے جدید حل پیش کریں گی۔
یہ بھی پڑھیے سعودی عرب میں نابینا افراد کے لیے جدید نیویگیشن سسٹم تیار
مزید برآں، سعودی میڈیا فورم نے سعودی فلم کمیشن اور مانگا پروڈکشنز کے ساتھ ایک نئی شراکت کا آغاز کیا ہے، تاکہ تخلیقی پروڈکشن، انوویشن، اور قومی صلاحیتوں کے فروغ میں تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے۔ یہ شراکت مملکت کے وژن 2030 کے تحت ثقافتی و تخلیقی صنعتوں کے استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
یہ ایونٹ سعودی عرب میں میڈیا انڈسٹری کے لیے ایک تاریخی موڑ ثابت ہوگا، جو عالمی سطح پر تخلیق، ابلاغ، اور تکنیکی ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیکنالوجی سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔