ریاض میٹرو نے اہم سنگ میل عبور کرلیا، گنیز ورلڈ ریکارڈ میں نام درج
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
ریاض میٹرو نے عالمی سطح پر اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے گنیز ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بنا لی ہے۔ اسے دنیا کا طویل ترین مکمل طور پر ڈرائیور لیس ٹرین نیٹ ورک تسلیم کیا گیا ہے، جو مجموعی طور پر 176 کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ کامیابی سعودی عرب کے جدید اور پائیدار ٹرانسپورٹ سسٹم کی تیز رفتار ترقی کا مظہر قرار دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ساڑھے 22 ارب ڈالر کا ریاض میٹرو منصوبہ جدید ترقی کا مظہر
ریاض میٹرو دارالحکومت کے پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے کا اہم حصہ ہے، جو 6 مربوط لائنوں پر مشتمل ہے اور ان میں 85 اسٹیشن شامل ہیں۔ یہ نظام جدید ترین ٹیکنالوجی کے تحت مکمل طور پر خودکار انداز میں چلایا جاتا ہے، جس کی نگرانی سینٹرل کنٹرول رومز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ یہ کنٹرول رومز اعلیٰ ترین معیار کے مطابق ٹرین آپریشنز، سیکیورٹی اور سروس کو مسلسل مانیٹر کرتے ہیں۔
ریاض کی پبلک ٹرانسپورٹ میں میٹرو اور بسیں شامل ہیں، ٹریفک کے بوجھ میں کمی، معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، شہری ترقی، سماجی سہولت اور ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ سسٹم شہریوں اور رہائشیوں کو مزید بہتر رسائی فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاض میٹرو منصوبے کا افتتاح، سعودی عرب کے ٹرانسپورٹ نظام میں انقلابی قدم
یہ اہم سنگِ میل ریاض سٹی کی رائل کمیشن کی ان کوششوں کو بھی اجاگر کرتا ہے جو اس نے اسمارٹ اور پائیدار شہری ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے کی ہیں۔
جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی اور جدت پر مبنی منصوبہ بندی نہ صرف دارالحکومت میں معیارِ زندگی بہتر کر رہی ہے بلکہ سعودی وژن 2030 کے اہداف کی تکمیل میں بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انفراسٹرکچر ریاض میٹرو سعودی عرب گنیز ورلڈ ریکارڈ وژن 2030.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انفراسٹرکچر ریاض میٹرو گنیز ورلڈ ریکارڈ وژن 2030 ریاض میٹرو
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔