اقوامِ متحدہ نے 2025ء کو ’’عالمی سالِ کوانٹم سائنس و ٹیکنالوجی‘‘ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
اقوامِ متحدہ نے 2025ء کو ’’عالمی سالِ کوانٹم سائنس و ٹیکنالوجی‘‘ قرار دے کر نہ صرف کوانٹم میکینکس کی ایک صدی مکمل ہونے کا اعتراف کیا ہے بلکہ کوانٹم دور کے عالمی آغاز کی باضابطہ توثیق بھی کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا مظہر ہے کہ کوانٹم تحقیق اب صرف نظریاتی بحث نہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور عالمی نظم و نسق کی بنیاد بن رہی ہے۔
انسانی ذہن کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ فطرت کے پوشیدہ رازوں کو دریافت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ سائنس کی تاریخ بھی اسی جستجو کی داستان ہے، جہاں ہر حل شدہ سوال کئی نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ طبیعیات کے شعبے میں ہر چند برس بعد کوئی ایسا انکشاف سامنے آتا ہے جو انسانی علم کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیتا ہے اور کائنات کے بنیادی ڈھانچے پر نظر ثانی کا تقاضا کرتا ہے۔
حال ہی میں جاپانی سائنس دانوں نے ایک انقلابی دریافت کی ہے جو نظری اور عملی دونوں سطحوں پر سائنس کے افق کو روشن کرتی ہے۔ اس تحقیق میں انہوں نے ’’بھاری الیکٹرانز‘‘ یا ’’بھاری فرمیونز‘‘ کے راز فاش کیے، جو اپنی غیر معمولی خصوصیات کی وجہ سے سائنسدانوں کے لیے طویل عرصے سے تجسس کا باعث تھے۔
عام الیکٹران ہلکے اور تیز رفتار ذرات ہوتے ہیں، لیکن جب یہ کسی خاص دھات یا مرکب میں مقامی مقناطیسی الیکٹرانز کے ساتھ مضبوط تعامل کرتے ہیں تو ان کا مؤثر کمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، جس سے وہ عام الیکٹرانز کے مقابلے میں ’’بھاری‘‘ دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بھاری پن محض علامتی نہیں بلکہ ان کے رویّے، توانائی اور حرکت میں بنیادی تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔
اوساکا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے مرکب ’’سیریم۔رھوڈیم۔ٹن‘‘ کا مطالعہ کیا، جس کی جالی نما ساخت ’’شبکۂ کاغومی‘‘ کہلاتی ہے۔ اس پیچیدہ جیو میٹری میں ایٹم کسی سیدھی لائن میں نہیں بلکہ ایک الجھے ہوئے نظام میں ترتیب پاتے ہیں، جس سے الیکٹرانز کے رویّے میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
تحقیق سے یہ انکشاف ہوا کہ سی۔رھوڈیم۔ٹن میں موجود بھاری فرمیونز کی زندگی کی مدت انتہائی مختصر ہو کر پلینک لمحے تک پہنچ جاتی ہے، جو طبیعیات میں سب سے بنیادی اور چھوٹا وقت کا پیمانہ ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ اثر کمرے کے درجۂ حرارت پر بھی برقرار رہتا ہے، جبکہ عام طور پر کوانٹم مظاہر انتہائی کم درجہ حرارت پر ہی دیکھے جاتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم نے الیکٹرانز کے توانائیاتی طیف کا مطالعہ کیا اور پایا کہ یہ الیکٹرانز کوانٹم الجھاؤ کی حالت میں ہیں، جس میں دو یا زیادہ ذرات ایک دوسرے سے اس طرح جُڑ جاتے ہیں کہ ایک پر اثر دوسرے پر فوری اثر ڈال دیتا ہے، خواہ وہ فاصلے پر ہوں۔ یہ مظہر جسے آئن اسٹائن نے ’’فاصلہ پر پراسرار عمل‘‘ کہا، اب کوانٹم طبیعیات میں بنیادی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر شِن اِیچی کیمورا نے وضاحت کی کہ ان کا مطالعہ دکھاتا ہے کہ بھاری فرمیونز ایک نازک کوانٹم حالت میں الجھے ہوئے ہیں اور یہ الجھاؤ پلینک لمحے کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ذرات فطرت کے سب سے بنیادی وقت کے پیمانے پر جُڑے ہوئے ہیں۔
یہ دریافت محض نظریاتی اہمیت کی حامل نہیں بلکہ عملی سطح پر بھی اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ آج کے کمپیوٹر دو حالتوں یعنی صفر اور ایک پر مبنی ہیں، جبکہ کوانٹم کمپیوٹرز کوانٹم خانوں کا استعمال کرتے ہیں جو ایک ہی وقت میں صفر اور ایک دونوں حالتوں میں رہ سکتے ہیں، جس سے حسابی طاقت اور رفتار کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ بھاری فرمیونز میں پائے جانے والے مستحکم کوانٹم حالات اگر قابو میں آ جائیں تو یہ کوانٹم کمپیوٹنگ میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
مزید برآں، تحقیق نے غیرفرمی مائع کے رویّے پر بھی روشنی ڈالی، جس میں الیکٹرانز سادہ فرمی مائع نظریہ پر پورا نہیں اترتے بلکہ کوانٹم الجھاؤ کی پیچیدہ حالت میں رہتے ہیں۔ اگر مستقبل میں سائنسدان اس الجھاؤ کو قابو میں لانے میں کامیاب ہو گئے تو یہ نہ صرف کوانٹم کمپیوٹرز بلکہ کوانٹم مواصلات، معلوماتی عمل کاری اور توانائیاتی ٹیکنالوجی میں بھی انقلاب برپا کر سکتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ سی۔رھوڈیم۔ٹن میں بھاری فرمیونز کی دریافت سائنس میں ایک سنگ میل ہے، جو کوانٹم الجھاؤ کو ٹھوس مادّوں میں فعال ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہے اور اس کے ذریعے ٹیکنالوجی کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔
کوانٹم کمپیوٹنگ آج سائنس کی تاریخ میں وہ مقام رکھتی ہے جو کبھی ایٹمی توانائی یا ڈیجیٹل انقلاب کو حاصل تھا۔ یہ ایک نئی سائنسی سرحد ہے جو علم، طاقت اور امکانات کی نئی دنیا کھول رہی ہے۔
جیسا کہ ڈاکٹر رچرڈ فائن مین نے 1981ء میں کہا تھا:قدرت خود کوانٹم انداز میں کام کرتی ہے، لہٰذا اگر ہم اسے سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوانٹم انداز میں سوچنا ہوگا۔
آج یہ فلسفہ حقیقت بن رہا ہے اور انسانیت کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو اس طاقت کو اخلاقی اور انسانی خدمت میں استعمال کیا جائے، یا اسے ناپسندیدہ مسابقت کا ذریعہ بنایا جائے۔ کامیابی اسی میں ہے کہ کوانٹم علم کو انسانی فلاح، مساوات اور پائیدار ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھاری فرمیونز الیکٹرانز کے کہ کوانٹم نہیں بلکہ دیتا ہے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔