ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کا 74ویں برسی پر شہیدِ ملت لیاقت علی خان کو پیغام خراجِ عقیدت و سلامِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اکتوبر2025ء) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین و وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی 74ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ لیاقت علی خان نے تحریکِ پاکستان کی کامیابی اور ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی، ان کی استقامت، خلوصِ نیت اور اصول پسندی نے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
(جاری ہے)
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ شہیدِ ملت کا کردار دیانت، قربانی اور قومی یکجہتی کا استعارہ ہے، جنہوں نے قوم کو اتحاد و اتفاق اور ایمانداری کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ لیاقت علی خان کے افکار و تعلیمات کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے ملک و ملت کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ شہیدِ ملت کے خواب کو تعبیر دی جا سکے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان شہیدِ ملت کے نظریے پر عمل پیرا رہتے ہوئے ایک مستحکم، ترقی یافتہ اور باوقار پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لیاقت علی خان مقبول صدیقی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔