ایف بی آر کا ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کے دوران شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) پشاور کے 2 اہلکاروں کی شہادت کا سبب بننے والے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کردی
ایف بی آر کے مطابق دونوں اہلکار قومی مہم کے دوران ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی میں مصروف تھے اور سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 40D کے تحت قائم کردہ چیک پوسٹ پر کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے شہید ہوئے۔
پشاور میں ایف بی آر کی سینیئر قیادت، چیف کمشنر اور کمشنرز نے شہدا کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔
ایف بی آر نے اپنے بیان میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جنہوں نے قومی فریضے کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ادارے نے کہاکہ ایسے بزدلانہ اور سفاک واقعات ایف بی آر کے عزم کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ وہ قومی محصولات کے تحفظ اور ٹیکس قوانین کے نفاذ کی ذمہ داری کو پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گا۔
ایف بی آر نے اس موقع پر شہدا کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مکمل اور غیر متزلزل تعاون کا یقین دلایا۔
ادارے نے کہاکہ حکومت کی پالیسی کے مطابق شہدا کے اہلِ خانہ کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا اور ان کے تمام واجبات و حقوق بلا تاخیر پہنچائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: معیشت درست سمت میں گامزن، آئندہ مالی سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں بنائےگا، وزیر خزانہ
ایف بی آر نے اس عہد کا اعادہ کیا کہ سپاہی مقدر علی اور سپاہی نظر محمد کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایف بی آر ٹیکس چوری فیڈرل بورڈ آف ریونیو وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر ٹیکس چوری فیڈرل بورڈ ا ف ریونیو وی نیوز ایف بی ا ر ایف بی آر
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز