UrduPoint:
2026-06-03@05:35:36 GMT

اثاثوں کی کل مالیت صرف 5 لاکھ 78 ہزار روپے

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

اثاثوں کی کل مالیت صرف 5 لاکھ 78 ہزار روپے

پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اکتوبر2025ء ) سہیل آفریدی کے اثاثوں کی کل مالیت صرف 5 لاکھ 78 ہزار روپے ہونے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ کے نومنتخب وزیر اعلٰی سہیل آفریدی کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ دستاویزات کے مطابق سہیل آفریدی کے اثاثوں کی مالیت صرف 5 لاکھ 78 ہزارروپے ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سہیل آفریدی کے اثاثوں کی مالیت مالی سال 2023 میں 3 لاکھ 76 ہزار روپے تھی، پچھلے مالی سال میں سہیل آفریدی کے اثاثوں کی مالیت میں 2 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق سہیل آفریدی کی ملکیت میں کوئی گھر ہے اور نہ کاروبار، سہیل آفریدی کی ملکیت میں صرف فریج، واشنگ مشین اور دو بینک اکاؤنٹس شامل ہیں۔ خیبر پختونخواہ کے نو منتخب وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ سے ہے۔

(جاری ہے)

سہیل آفریدی نے پشاور یونیورسٹی سے بی ایس اکنامکس کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

وہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن خیبر پختونخواہ کے صدر اور انصاف یوتھ وِنگ خیبر پختونخواہ کے صوبائی صدر بھی رہے۔ سہیل آفریدی نے 2024 کے ضمنی انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لیا تاہم اس دوران انہیں تحریک انصاف کی حمایت حاصل رہی۔ سہیل آفریدی صوبائی نشست پی کے 70 سے ن لیگ کے امیدوار بلاول آفریدی کو شکست دے کر پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے انہیں صوبائی کابینہ میں شامل کرتے ہوئے پہلے معاونِ خصوصی برائے کمیونیکیشن اینڈ ورکس مقرر کیا، بعد میں سہیل آفریدی کو صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کا قلمدان سونپا گیا۔ واضح رہے کہ پیر کے روز نئے قائدِ ایوان کے انتخاب کیلئے خیبرپختونخواہ اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت سپیکر بابر سلیم سواتی نے کی، صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران علی امین گنڈاپور نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جس دن عمران خان نے حکم دیا اسی دن استعفیٰ دے دیا تھا، اگر کوئی شک ہے تو میں پھر فخر کے ساتھ اعلان کر رہا ہوں کہ اللہ نے مجھے یہ موقع دیا، مجھ پر یہ وقت آیا کہ جہاں ثابت ہونا تھا کہ کُرسی بڑی ہے یا اپنے لیڈر کا حکم، اللہ نے مجھے کامیاب کیا، وفاداری اور عزت ہمیں اسلام اور آباؤ و اجداد نے بتائی ہے، میری کارگردگی اچھی تھی یا بری سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس جنگ کے لئے ہمارا لیڈر قربانی دے رہا ہے، ہم مل کر اِس جنگ کو لڑیں گے اور کامیاب ہوں گے کیوں کہ یہاں جمہوریت کے ساتھ مذاق ہوتا آرہا ہے، ہماری پارٹی، ہماری مرضی، ہمارا فیصلہ، ہماری مرضی، ہماری اکثریت، ہماری مرضی اور سب سے بڑھ کر ہمارا لیڈر اور اُس کی مرضی، نئے وزیراعلیٰ کے عمل میں تاخیری حربے استعمال نہ کریں، ہم مزید کچھ برداشت نہیں کریں گے۔

اس پر سپیکر خیبرپختونخواہ اسمبلی بابر سلیم سواتی نے علی امین گنڈاپور کے استعفیٰ کو آئینی قرار دیتے ہوئے اس کی توثیق کردی اور رولنگ دی کہ تمام معاملات آئین کے مطابق ہوئے ہیں، وزیراعلی کے انتخاب کا جو طریقہ اختیار کیا وہ عین آئین کے مطابق ہے، اِس ملک میں چند لوگوں کی خواہش ہے کہ سُہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہ بنیں لیکن آئین لوگوں کی خواہشات پر نہیں چل سکتا۔

سپیکر صوبائی اسمبلی کی اس رولنگ کے ساتھ ہی نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا اور ایوان میں گھنٹیاں بجائی گئیں تاکہ ووٹنگ کے لیے تمام خواہشمند اراکین اسمبلی پہنچ جائیں، جس کے بعد حکومتی اراکین صوبائی اسمبلی نے انتخابی عمل میں حصہ لیا جس کے لیے ایم پی ایز مختص کردہ لابی میں چلے گئے، بعد ازاں نتائج کا اعلان ہوا تو سہیل آفریدی نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی جب کہ اپوزیشن نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سہیل آفریدی کے اثاثوں کی صوبائی اسمبلی کے مطابق

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب