وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا پہنچ گئے، پاکستان افریقہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس اور سنگل کنٹری ایگزیبیشن میں شرکت کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
عدیس ابابا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 اکتوبر2025ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا پہنچ گئے ۔ بدھ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان 16 سے 18 اکتوبر 2025ء تک عدیس ابابا میں منعقد ہونے والی 5 ویں پاکستان-افریقہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس اور سنگل کنٹری ایگزیبیشن میں شرکت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تجارتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں ۔
وفاقی وزیر تجارت کا ایئرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ برہانو تسیگے، ایتھوپیا کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عبدالحکیم ملو، تجارت اور علاقائی انضمام کے وزیر مملکت دیوانو کیدیر، وزارت خارجہ میں ایڈیشنل سیکرٹری سفیر جمال بیکر اور عدیس ابابا میں پاکستانی سفارت خانے کے افسران بشمول ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسر نے جام کمال کا ائیرپورٹ پر استقبال کیا۔(جاری ہے)
وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے زیر اہتمام5 ویں پاکستان-افریقہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس اور سنگل کنٹری ایگزیبیشن افریقی ممالک کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی روابط کو گہرا کرنے کے لیے حکومت پاکستان کے ایک اہم اقدام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایتھوپیا میں اس سال کا ایڈیشن پاکستان کی "لک افریقہ پالیسی" کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے جس کا مقصد برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانا اور افریقہ کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔اس نمائش میں ٹیکسٹائل،فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ، آئی ٹی، زراعت اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی 110 سے زائد معروف پاکستانی کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں جو پاکستان کی بڑھتی ہوئی صنعتی صلاحیت اور برآمدی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔دورے کے دوران وزیر تجارت ایتھوپیا کے ہم منصب، اعلیٰ سرکاری حکام اور کاروباری رہنمائوں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ تجارتی تعاون اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔یہ تقریب افریقی براعظم میں باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری قائم کرنے اور تجارتی سفارت کاری کے ذریعے جامع اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کی نشاندہی کرتی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی وزیر تجارت ایتھوپیا کے جام کمال کے لیے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔