جلد آپ جان سکیں گے کہ ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ کس ملک سے ہے
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اگر آپ بھی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسکرولنگ کرتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ ہر وقت سیاست یا متنازع موضوعات پر بات کرنے والے اکاؤنٹس دراصل کہاں سے تعلق رکھتے ہیں، تو اب اس سوال کا جواب آپ کو ملنے والا ہے۔
ایلون مسک کی زیرِ ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ ایک نئے فیچر پر کام کر رہا ہے، جس کے تحت صارفین کو یہ معلومات دستیاب ہوں گی کہ کسی اکاؤنٹ کا تعلق کس ملک سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دکھایا جائے گا کہ یوزرنیم کب تبدیل کیا گیا۔
ایکس کے پراڈکٹ ہیڈ نکیتا بیر (Nikita Bier) کے مطابق، کمپنی اس فیچر کو آزمائشی طور پر متعارف کروا رہی ہے، تاکہ جعلی اکاؤنٹس اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب آپ ایکس پر کوئی پوسٹ پڑھتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ اس کے پیچھے موجود ذریعہ اور اس کی سچائی کو جان سکیں۔ خاص طور پر اہم موضوعات پر حقائق کی جانچ بہت اہم ہے۔
یہ نیا فیچر آئندہ چند دنوں میں کمپنی کے اندرونی حلقوں میں ٹیسٹ کیا جائے گا، اور امکان ہے کہ جلد ہی صارفین کو بھی دستیاب ہوگا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انسٹاگرام میں بھی کچھ حد تک ایسا ہی ایک فیچر موجود ہے، تاہم وہاں لوکیشن ظاہر کرنا اختیاری (optional) ہے۔ نکیتا بیر نے اشارہ دیا ہے کہ ایکس پر بھی صارفین کو لوکیشن چھپانے کی اجازت دی جائے گی، لیکن اگر کوئی صارف اپنی لوکیشن چھپائے گا، تو ایپ اس کی پروفائل پر اس کا اشارہ ضرور دے گی۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسحاق ڈار سے صدر انٹرنیشنل فیڈریشن اکاؤنٹنٹس ژاں بوکو کی ملاقات
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نائب وزیراعظم کے دفتر کے مطابق اسحاق ڈار نے پاکستان آمد پر ژاں بوکو کا خیرمقدم کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ اکاؤنٹینسی کا پیشہ مالیاتی گورننس اور شفافیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اکاؤنٹنٹس کو جدید تقاضوں، خاص طور پر اے آئی ٹیکنالوجی کے بدلتے ماحول کے لیے تیار کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آڈٹ معیار بہتر بنانے اور ایس ایم ایز کی معاونت کے لیے کام کر رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ عالمی معیار اور نئی ٹیکنالوجی کے مطابق پاکستانی پروفیشنلز کی تربیت ناگزیر ہے۔