غزہ امن کانفرنس پیر کو مصر میں ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ اور عبدالفتاح السیسی مشترکہ صدارت کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی پیر کے روز شرم الشیخ میں غزہ امن کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے، کانفرنس میں 20 سے زائد ممالک کے رہنما شریک ہوں گے۔
کانفرنس کا مقصد غزہ جنگ کے خاتمے، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ اور علاقائی سلامتی کے نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آصف زرداری سے اردنی سفیر کی ملاقات، اردن میں ہونے والی غزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی، ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون اور جرمن چانسلر فریڈرش میرٹز نے اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی شرکت کے بارے میں فی الحال کوئی اطلاع نہیں ملی، جبکہ حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب، وزیراعظم شہباز شریف کل مصر روانہ ہوں گے
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے بتایا کہ تنظیم نے ماضی میں قطری اور مصری ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کیے تھے۔
امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں پیر کو یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے، جسے برطانیہ نے دو سالہ جنگ کے بعد ایک تاریخی موڑ قرار دیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر غزہ امن معاہدے کے اگلے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے، جس میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والا مشن اور غزہ میں عبوری حکومت کے قیام کا عمل شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دو سالہ جنگ کے بعد ملبہ اٹھانے کا عمل شروع، 5 لاکھ سے زیادہ فلسطینی غزہ لوٹ آئے
کانفرنس میں وہ برطانیہ کے پختہ عزم کا اعادہ کریں گے کہ ان کا ملک جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔
پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اس اہم کانفرنس میں شرکت کریں گے، جو کل مصر روانہ ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا امن کانفرنس پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ صدارت عبدالفاتح الیسیسی غزہ فلسطین وزیراعظم شہبازشریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امن کانفرنس پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین وزیراعظم شہبازشریف کانفرنس میں کریں گے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔