پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر حکومت سے علیحدگی کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ فیصلہ آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری محمد یاسین کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق وزیراعظم انوارالحق کی حکومت کے ساتھ مزید اتحاد اب ممکن نہیں رہا۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ پارٹی خطے کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت ہے اور اب وہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔
چوہدری یاسین کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی اپنی آئندہ حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے آج کراچی میں خصوصی اجلاس بلائے گی، جس کی صدارت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود کریں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق کراچی اجلاس میں یہ طے کیا جائے گا کہ آیا پیپلز پارٹی حکومت میں بیٹھے گی یا اپوزیشن کا کردار اپنائے گی۔ اگر حکومت سازی کی کوششیں کامیاب رہیں تو چوہدری یاسین وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔
دوسری جانب، وفاقی سطح پر اتحادی جماعتوں کے درمیان سیاسی درجہ حرارت میں کمی آتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان لفظی جنگ کے بعد اب سیزفائر ہو گیا ہے۔ دونوں جماعتوں کی قیادت نے اپنے رہنماؤں کو بیان بازی سے باز رہنے کی ہدایت دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق نواب شاہ میں صدر آصف علی زرداری سے حکومتی وفد نے اہم ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی معاملات پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام اختلافات افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں گے۔
حکومتی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی پیغام صدر زرداری کو پہنچایا۔ وفد میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی شامل تھے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی علیحدگی اور وفاق میں مفاہمت کے اشارے، دونوں مل کر اس بات کی علامت ہیں کہ ملک میں سیاسی صف بندی ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے — جہاں پرانے اتحاد ٹوٹ رہے ہیں اور نئی سیاسی بساط بچھائی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کے مطابق
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔