وزیراعظم آزاد کشمیر کو ہٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں، حکومتی جماعتوں کا اتحاد برقرار ہے ، طارق فضل
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کو فوری طور پر ہٹانے یا ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی حلقے افواہیں پھیلا رہے ہیں، لیکن اجلاس میں نہ تو استعفے کا ذکر ہوا اور نہ ہی وزیراعظم آزاد کشمیر کو برطرف کرنے کی کوئی تجویز زیر غور آئی۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کا اتحاد بدستور قائم ہے اور وزارتیں نہ لینے کے باوجود پیپلز پارٹی کا تعاون ان کی جمہوریت پسندی کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں بھی حالات کی نزاکت کے پیش نظر ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں، یہی اتحاد ملک کے لیے استحکام اور اچھی خبریں لا رہا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی کیونکہ موجودہ حکومت ملکی سلامتی اور عوامی استحکام کے ایجنڈے پر متحد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز روزانہ ملک کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں اور ہم ان کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں، پرامن مظاہرے اگر تشدد میں بدل گئے تو وزیراعظم نے اسی لیے مذاکراتی راستہ اختیار کیا تاکہ حالات خراب نہ ہوں۔
طارق فضل چودھری نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے کہا کہ کمیٹی کے کوئی بھی مطالبات غیر آئینی نہیں، ہم نے تحریری طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام وعدے پورے کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت آزاد کشمیر میں انتشار اور تشدد کے مناظر دیکھنا چاہتا تھا، لیکن اس کی خواہش پوری نہیں ہوئی۔ وزیراعظم نے مذاکراتی ٹیم کو کامیاب پیش رفت پر شاباش دی ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں پیپلز پارٹی سے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے اور دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات قیادت کی سطح پر خوش اسلوبی سے حل کیے جائیں گے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاسی تاریخ لوگوں کو استعمال کرکے چھوڑ دینے کی رہی ہے، اور اب وہی رویہ علی امین گنڈاپور کے ساتھ بھی دہرایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
مظفرآباد (آئی پی ایس )آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے شہر میرپور اور اس کیگردونواح میں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسزبحال ہونا شروع ہوگئی ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا ہے۔ اس حوالے کچھ دیر قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اطلاعات ہیں کہ میرپور آزاد کشمیرمیں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطہ جلد بحال کردیا جائیگا۔
ان کا کہنا تھا کہ امید ہے مظفرآباد اور دیگرعلاقوں کے حوالے سے ہماری درخواستیں بھی جلد منظور کرلی جائیں گی۔ واضح رہے میرپور آزادکشمیر میں گزشتہ 45 دن سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرامریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی اگلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم