WE News:
2026-06-03@01:10:25 GMT

کیا 28ویں ترمیم میں نئے صوبے بن سکیں گے؟

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

کیا 28ویں ترمیم میں نئے صوبے بن سکیں گے؟

28 ویں ترمیم ممکن ہے اور اس پر بات چیت بھی چل رہی ہے۔ رانا ثناء اللہ اور فیصل واوڈا سمیت دیگر سیاسی قائدین اس بات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ کچھ سینیئر صحافیوں کے مطابق 28 ویں ترمیم میں ممکنہ طور پر بلدیاتی نظام کی مضبوطی اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بات کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:27ویں ترمیم طویل المدتی فوائد رکھتی ہے، وقت آگیا ہے کہ ملک 28ویں ترمیم کی جانب بھی پیش قدمی کرے، خواجہ آصف

21 نومبر کو ایم کیو ایم کی قیادت نے ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا اظہار بھی کیا کہ وہ بلدیاتی نظام کی مضبوطی کے لئے جدوجہد تو کر ہی رہے ہیں لیکن وہ پارلیمنٹ میں نئے صوبے کے قیام کے لئے بھی آواز اٹھائیں گے۔

ایم کیو ایم کے اس اعلان پر پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان ایک بار پھر لفظی جنگ شروع ہو گئی ہے۔

28 ویں آئینی ترمیم پر بات کیسے شروع ہوئی؟

13 نومبر کو صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر دستخط کر کے اسے آئینِ پاکستان کا حصہ بنا دیا تو اسی وقت 28 ویں آئینی ترمیم کی باتیں شروع ہو گئیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فیصل واوڈا قومی اسمبلی سے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل مٹھائی کا ٹوکرا لے کر پارلیمنٹ پہنچ گئے اور کہا کہ ’27 ویں آئینی ترمیم کی مٹھائی کھائیں اور 28 ویں آئینی ترمیم کی تیاری کریں‘۔

یہ بھی پڑھیں:ملک میں عدالتی نظام انصاف پر مبنی نہیں، 27ویں ترمیم کو مسترد کرتے ہیں، حافظ نعیم الرحمان

اسی طرح وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے 17 نومبر کو کہا کہ 28 ویں ترمیم پر بات چیت چل رہی ہے اور اگر اتفاقِ رائے پیدا ہو گیا تو پیش بھی کر دی جائے گی۔اس ترمیم میں عوامی مسائل جیسے بلدیاتی ادارے، بہبودِ آبادی، قومی مالیاتی کمیشن، صحت کا نظام اور صوبوں و مرکز کے درمیان تعلقات، ان امور پر بات چیت چل رہی ہے۔

کراچی اور حیدرآباد کو ملا کر ایک صوبہ بنانے کی بات وقتاً فوقتاً قومی بحث کا موضوع بنتی رہتی ہے اور حالیہ دنوں میں جب سے حکومتی اتحاد میں شامل ایم کیو ایم نے اس پر بات چیت شروع کی ہے تو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں ایک ٹکراؤ نظر آتا ہے۔

نئے صوبوں پر بات ہو رہی ہے، احمد بلال محبوب

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے صدر اور معروف سیاسی تجزیہ نگار احمد بلال محبوب نے وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ ایک دم سے سامنے نہیں آیا۔

28 ویں ترمیم کے اندر نئے صوبوں کے معاملے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک ایسے وقت میں جب نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی تحریک موجود نہ ہو تو پارلیمنٹ میں اس بحث کا سامنے آنا ظاہر کرتا ہے کہ اس سلسلے میں کہیں نہ کہیں بات ضرور ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے باقاعدہ تجاویز پر مشتمل مسودہ پیش کیا گیا اور صحافیوں کو بریفنگ بھی دی گئی، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے کچھ محرکات موجود ہیں۔ مقتدر حلقوں میں نئے صوبے اور صدارتی نظام متعارف کرائے جانے پر بات چیت ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئی نہریں نکالنے کے معاملے پر ایک صوبے میں بہت بڑی تحریک چلائی گئی، حالانکہ اس صوبے کا پانی استعمال کرنا بھی مقصود نہیں تھا۔ زرعی خود کفالت کے لیے یہ قدم ضروری تھا، مگر صوبائی انتہاپسندی کی نذر ہو گیا۔ ممکن ہے کہ اب اسی انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے چھوٹے صوبوں کی بات ہو رہی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:28ویں آئینی ترمیم پر مشاورت شروع، بیرسٹر عقیل ملک نے تفصیلات بتادیں

احمد بلال محبوب کے مطابق بلدیاتی نظام کی مضبوطی کا وعدہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم سے کر رکھا ہے۔ این ایف سی کے مسائل بھی موجود ہیں۔ جس طرح 26 ویں ترمیم کی کچھ چیزیں 27 ویں ترمیم میں طے ہوئیں، اسی طرح 27 ویں کی کچھ باقی معاملات 28 ویں ترمیم میں طے ہو سکتے ہیں۔

اتفاقِ رائے کے بغیر نئے صوبے نہیں بن سکتے، طاہر خلیل

جنگ سے وابستہ سینیئر صحافی اور پارلیمانی رپورٹنگ کے ماہر طاہر خلیل کہتے ہیں کہ نئے صوبوں کے قیام پر بات چیت تو ہو رہی ہے لیکن اس پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم پر کبھی راضی نہیں ہوگی۔

اگر پنجاب کو شمالی، وسطی اور جنوبی پنجاب میں تقسیم کرنے کی بات ہو تو بھی اتفاقِ رائے مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخواہ میں ہزارہ صوبے کی بات بھی پرانی ہے۔

طاہر خلیل نے کہا کہ 28 ویں ترمیم کا اصل ہدف بلدیاتی نظام ہے، اور یہ بات زیر غور ہے کہ نئی ترمیم کے ذریعے یہ لازم کر دیا جائے کہ بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم ہوتے ہی 90 روز کے اندر انتخابات کروائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے ہیں لیکن پنجاب اور اسلام آباد میں ابھی تک نہیں ہوئے، جو ہونے چاہییں۔ ترمیم میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ صوبے وفاقی فنڈز کے لیے اپنا حصہ ادا کریں، جس کے لیے این ایف سی کے قواعد میں تبدیلی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:28ویں آئینی ترمیم کب آئےگی اور اس میں کیا تجاویز ہوں گی؟

ان کے مطابق درست راستہ یہ ہے کہ تمام معاملات پہلے مشترکہ مفادات کونسل میں رکھے جائیں، پھر پارلیمان میں کھلی بحث ہو، اور عوام کے سامنے مجوزہ ترامیم پیش کی جائیں۔

مزید یہ کہ ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے—مثلاً صرف پنجاب کے 11 ڈویژن یعنی 11 صوبے—مگر اس کے لیے بہت بڑے اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

28ویں ترمیم احمد بلال محبوب ایم کیو ایم بلال محبوب بلدیاتی نظام پیپلز پارٹی رانا ثنا طاپر خلیل فیصل واوڈا نئے صوبہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 28ویں ترمیم احمد بلال محبوب ایم کیو ایم بلال محبوب بلدیاتی نظام پیپلز پارٹی طاپر خلیل فیصل واوڈا ویں آئینی ترمیم کی نئے صوبوں کے قیام احمد بلال محبوب ویں ترمیم میں بلدیاتی نظام یہ بھی پڑھیں پیپلز پارٹی ایم کیو ایم پر بات چیت کے قیام کے ایم کی کے لیے ہو رہی بات ہو کی بات کہا کہ رہی ہے

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے