وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اتوار کو واشنگٹن پہنچ گئے جہاں وہ 13 سے 18 اکتوبر تک ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔

یہ اجلاس دنیا بھر کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے سربراہان اور ترقیاتی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہیں، جس کے ذریعے پاکستان کو آئندہ آئی ایم ایف قسط کے حصول، اقتصادی اصلاحات کے فروغ اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے روابط بڑھانے کا موقع ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے آئی ایم ایف کی اہم شرط پوری کردی

اورنگزیب کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کے ساتھ 8.

4 ارب ڈالر کے دو قرض پروگراموں پر مذاکرات مکمل کیے مگر اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) کا اعلان نہیں کیا گیا۔

دورے سے قبل وزیرِ خزانہ نے امید ظاہر کی تھی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایس ایل اے آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ان کے قیام کے دوران طے پا جائے گا۔

اسلام آباد کے حکام کے مطابق، پاکستان کا وفد ان اجلاسوں میں تیسری قسط کے حصول، باقی اہداف کی تکمیل اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے مصدقہ تخمینے پیش کرنے پر توجہ دے گا، جن میں صوبائی شراکت وفاقی ہدف کے مطابق ہوگی۔

گزشتہ ماہ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پاکستان میں حالیہ سیلابی نقصانات کو اپنے جائزے میں شامل کرے۔

یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا دباؤ، پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل گرانے اور فلک بوس ٹاور تعمیر کرنے پر غور

پاکستان 1950 سے آئی ایم ایف کا رکن ہے اور اب تک 20 سے زائد پروگرام حاصل کر چکا ہے، جو ملک کی بیرونی معاونت پر انحصار اور بحرانوں کے دوران آئی ایم ایف کے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

ورلڈ بینک کی جانب سے بھی پاکستان کو توانائی، ٹرانسپورٹ، انسانی سرمائے، سماجی تحفظ اور ماحولیاتی منصوبوں میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

واشنگٹن میں وزیرِ خزانہ کے اجلاسوں کے دوران ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اور سرمایہ کاروں و ریٹنگ ایجنسیوں سے رابطوں کے موضوعات زیرِ بحث آئیں گے۔

علاوہ ازیں، محمد اورنگزیب ورلڈ بینک کے زیرِ اہتمام پاکستان کے ٹیکس نظام کی ڈیجیٹل تبدیلی سے متعلق علاقائی گول میز اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ سال معاشی ترقی کی شرح 6 فیصد تک ہونے کی توقع ہے، وزیرخزانہ

ذرائع کے مطابق وزیرِ خزانہ کے واشنگٹن میں 65 سرکاری و نجی اجلاس طے ہیں، جن میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (میگا) کے حکام سے ملاقاتیں شامل ہیں۔

وہ ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا سے علیحدہ ملاقات کریں گے اور ان کی جانب سے منتخب ممالک کے وزرائے خزانہ کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقات کریں گے اور جی 24 اور MENAAP ممالک (مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان) کے اجلاس میں کلیدی خطاب کریں گے۔

وزیرِ خزانہ دو ورلڈ اکنامک فورم تقریبات میں بھی شریک ہوں گے اور چین، برطانیہ، سعودی عرب، ترکیہ اور آذربائیجان کے وزرائے خزانہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔

ان کے شیڈول میں وائٹ ہاؤس، امریکی کانگریس، محکمۂ خارجہ، محکمۂ خزانہ اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کے حکام سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب کی تباہ کاریاں: فصلیں کتنی کم، آئندہ مالی سال کیسا ہوگا، ورلڈ بینک کے تخمینے

مزید برآں، وہ یو ایس پاکستان بزنس کونسل، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی سرمایہ کاری بینکوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کی جا سکے۔

دورے کے دوران وزیرِ خزانہ بین الاقوامی اور امریکی میڈیا کو بھی انٹرویوز دیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان اجلاسوں کے نتائج، خاص طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ ایس ایل اے کا حتمی ہونا، پاکستان کی معاشی استحکام اور آئندہ ترقیاتی سمت کے لیے نہایت اہم ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آئی ایم ایف امریکا محمد اورنگزیب واشنگٹن ورلڈ بینک

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف امریکا محمد اورنگزیب واشنگٹن ورلڈ بینک ورلڈ بینک کے یہ بھی پڑھیں ا ئی ایم ایف آئی ایم ایف کے دوران کے مطابق کریں گے

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ