سکھر: 11 افراد کے قتل میں ملوث باپ بیٹے کو سزا سنادی گئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
علامتی تصویر۔
سکھر میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے 11 افراد کے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم وہاب اللہ اور اسکے بیٹے کلیم اللہ انڈھڑ کو 11، 11سال قید کی سزا سنائی جبکہ تین ملزمان کو جرم ثابت نہ ہونے پر بری کر دیا۔
چند سال قبل مجرمان نے اپنے خاندان کی 11 خواتین اور بچوں کو قتل کر دیا تھا۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
آغا سراج درانی کی بیٹی کی پاکستان واپسی کی درخواست منظور، عدالت میں پیش ہونے کا حکم
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی مرحوم کی صاحبزادی کی پاکستان واپسی کی درخواست پر ان کی 20 روزہ حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔
سماعت جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عبد المبین لاکھو پر مشتمل آئینی بینچ کے روبرو ہوئی۔ نیب اور سرکاری وکلاء نے درخواست کی مخالفت کی، تاہم عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کوئی نہیں چاہتا کہ درخواست گزار پاکستان واپس آئے۔ جسٹس یوسف علی سعید نے کہا کہ پاکستان آنے پر انہیں احتساب عدالت میں پیش ہونا ہوگا، اور عدالت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔
درخواست گزار کے وکیل عامر رضا نقوی نے بتایا کہ ہائیکورٹس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561 کے تحت آئین کے آرٹیکل 199 کے اختیارات استعمال کرتی ہیں، جس سے آئینی بینچ کو بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ ریگولر بینچ کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔
جسٹس عبد المبین لاکھو نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کے ٹکٹ کی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں، جس پر وکیل نے کہا کہ درخواست گزار امریکہ میں ہیں اور متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے 8 سے 10 ہفتوں کی مہلت چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ اتنی طویل مہلت نہیں دی جا سکتی، اور درخواست گزار کو کچھ تیاری کے بعد آنا ہوگا۔
آخرکار، آئینی بینچ نے صنم درانی کے لیے 20 یوم کی حفاظتی ضمانت منظور کی اور ہدایت دی کہ وہ متعلقہ عدالت میں پیش ہوں۔