امن معاہدے کے باوجود دھمکیاں: غیر مسلح نہ ہونے پر حماس کیخلاف طاقت استعمال ہوگی، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن معاہدے کے باوجود متنازع بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی حالیہ بیان بازی نے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود بےچینی کو نئی شدت دے دی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ارجنٹائن کے صدر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کھلے الفاظ میں کہا کہ امریکا نے حماس سے بات کی ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ وہ خود اسلحہ چھوڑ دیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو واشنگٹن خود انہیں غیر مسلح کر دے گا۔ صدر ٹرمپ نے اس عمل کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کا بھی ذکر کیا، جس نے فلسطینیوں میں ایک بار پھر خدشات بڑھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیانات محض بات چیت کی زبان نہیں بلکہ ایک واضح اشارہ ہیں کہ امریکی پالیسی فلسطینی مزاحمتی تحریک کے حوالے سے عسکری حل کی طرف مائل ہے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بھی قوم سے خطاب میں کہا کہ غزہ میں فوجی کارروائیاں ختم نہیں ہوئیں اور بڑے سیکورٹی چیلنجز ابھی برقرار ہیں۔
مبصرین کے مطابق اسرائیلی عہدیداروں کی ہٹ دھرمی اور امریکی دباؤ اس خطے میں امن کے امکانات کو مزید کمزور کرتا دکھائی دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طاقت کے ذریعے کسی سیاسی و سماجی تحریک کو ختم کرنے کی کوششیں عموماً صورتِ حال کو پائیدار حل سے دور کر دیتی ہیں اور شہری آبادی کو ناقابلِ تصور انسانی و معاشی مصائب میں دھکیل سکتی ہیں۔
فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی نظر میں ایسے متنازع فیصلے ، خواہ وہ اعلان کی سطح پر ہوں یا عملی اقدام کی شکل میں ، شفاف بین الاقوامی ثالثی اور عوامی نمائندگی کے بغیر ناقابلِ قبول ہیں۔ فلسطینی دہائیوں سے مسلسل تنازعات، ناکا بندیوں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور اس نازک صورتِ حال میں مزید عسکری مداخلت انسانی قیمت میں خطرناک اضافہ لا سکتی ہے۔
.ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کا یوکرین‘ روس جنگ مقرہ تاریخ پر ختم کرانے میں ناکامی کا اعتراف
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251127-01-6
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کیلیے 27 نومبر کی مقررہ تاریخ سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرین کو امریکی حمایت یافتہ امن منصوبے پر رضامند کرنے کی جلدی نہیں کر رہے، میرے لیے آخری تاریخ وہ ہے جب یہ ختم ہو جائے۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ٹرمپ نے ائر فورس ون پر فلوریڈا جاتے ہوئے ’تھینکس گیونگ‘ کی چھٹی منانے کے دوران رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی مذاکرات کار روس اور یوکرین کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت کر رہے ہیں اور ماسکو نے کچھ رعایتیں دینے پر اتفاق کیا ہے، تاہم انہوں نے ان کی تفصیل نہیں بتائی۔ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں 27 نومبر جمعرات کی چھٹی کو وہ دن قرار دیا تھا، جب وہ چاہتے تھے کہ یوکرین معاہدے پر رضامند ہو جائے تاکہ روس کی یوکرین میں جنگ ختم ہو سکے۔لیکن اب وہ اور ان کے معاونین کسی سخت آخری تاریخ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ معاہدہ جلد از جلد ہو جائے۔