غزہ تعمیر نو: ٹونی بلیئر کے کردار کو حماس کی سخت مخالفت کے باوجود فلسطین اتھارٹی نے قبول کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کو غزہ کی تعمیرِ نو میں کردار ادا کرنے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی منظوری مل گئی ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اردن میں ہونے والی ایک ملاقات کے بعد سامنے آیا، جیسا کہ برطانوی اخبار گارڈین نے رپورٹ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹونی بلیئر نے فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ سے عمان میں ملاقات کی، جس میں جنگ کے بعد کے حالات، جنگ بندی کے قیام، قیدیوں کی رہائی اور امداد کی ترسیل پر بات چیت کی گئی۔
حسین الشیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ “ہم صدر ٹرمپ، ٹونی بلیئر اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر خطے میں پائیدار امن، جنگ بندی، اور تعمیرِ نو کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں۔
دوسری جانب حماس نے ٹونی بلیئر کے کردار کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی بورڈ کو فلسطین کی سرپرستی کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ حماس کا مؤقف ہے کہ بلیئر کا کردار فلسطینی خودمختاری کے منافی ہوگا۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے روکے گئے ٹیکس ریونیو کی واپسی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کے باعث اتھارٹی کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
اس دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہ واضح نہیں کہ ٹونی بلیئر عالمی رہنماؤں کے درمیان اس کردار کے لیے کتنی مقبولیت رکھتے ہیں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹونی بلیئر
پڑھیں:
پاکستان نے اسرائیل کا فلسطینی سرزمین بشمول غزہ سے مکمل انخلا ضروری قرار دیدیا
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر خصوصی پیغام میں بہادر فلسطینی عوام کی جدوجہد اور ہمت کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام سے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، پاکستان ہمیشہ انسانیت، انصاف اور برابری کی بنیاد پر فلسطین کیساتھ کھڑا رہا۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے خصوصی پیغام جاری کئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان پختہ عزم کیساتھ فلسطینی عوام کیساتھ کھڑا ہے، دہائیوں سے فلسطینی عوام حق خودارادیت کی نفی اور زمین سے محرومی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، غزہ میں گھروں، ہسپتالوں، سکولوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی ناقابل بیان ہے، شدید سانحات کے باوجود فلسطینی عوام نے غیر متزلزل ہمت اور عزم دکھایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم اور منظم نسل کشی پر مؤثر عالمی احتساب ضروری ہے، دو ریاستی حل کی حالیہ کانفرنس اور غزہ امن منصوبہ ایک اہم موقع ہے۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ جنگ بندی کا جاری رہنا اور تشدد کی روک تھام ناگزیر ہے، غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا فلسطینی سرزمین، بشمول غزہ، سے مکمل انخلا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، پاکستان دیرپا اور جامع فلسطینی حل کی بھرپور حمایت کرتا ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 1967کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے، القدس الشریف فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے، پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کیساتھ رہے گا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر خصوصی پیغام میں بہادر فلسطینی عوام کی جدوجہد اور ہمت کو خراج تحسین پیش کیا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام سے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، پاکستان ہمیشہ انسانیت، انصاف اور برابری کی بنیاد پر فلسطین کیساتھ کھڑا رہا، پاکستانی قوم نے ہر مشکل گھڑی میں فلسطینی بھائیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ 1940 کی قرارداد لاہور میں بھی فلسطینی حق خودارادی کی واضح حمایت شامل تھی، پاکستان نے ہر عالمی فورم پر اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی۔ صدر مملکت نے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ شہریوں کے تحفظ اور اسرائیلی جنگی جرائم پر احتساب ناگزیر ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ، او آئی سی اور آئی سی جے میں فلسطینی حقوق کیلئے پاکستان سرگرم رہا، غزہ امن معاہدے میں پاکستان نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔ صدر نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی سیاسی، سفارتی، انسانی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، انہوں نے کہا کہ القدس الشریف کو فلسطین کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ صدر مملکت آصف زرداری نے کہا کہ فلسطینی عوام کی جدوجہد دنیا کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگا دے، انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے میں فلسطینی بھائیوں کیساتھ مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کروں۔