غزہ: ٹرمپ امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی بربریت جاری، صیہونی فوج کے وحشیانہ حملوں میں 9 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ: ٹرمپ امن معاہدے پر دستخط کے باوجود غزہ پر اسرائیلی بربریت کا سلسلہ تھم نہ سکا، قابض فوج کی تازہ بمباری میں غزہ کے مختلف علاقوں میں 9 فلسطینی شہید ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ میں تازہ ترین فضائی اور زمینی حملوں میں مزید 9 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے، جب کہ غزہ کے کئی علاقے اب بھی ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابقشجاعیہ کے رہائشی علاقے میں اسرائیلی فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ اور بمباری کے دوران 5 فلسطینیوں کو شہید کردیا، جبکہ جنوبی غزہ کے خان یونس میں اسرائیلی ڈرون نے ایک گھر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
غزہ کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تباہ حال عمارتوں کے ملبے تلے سے مزید 250 شہدا کی لاشیں نکالی گئی ہیں، بھاری مشینری کی کمی اور بارودی مواد کے پھیلاؤ کے باعث ریسکیو کارروائیاں نہایت سست رفتاری سے جاری ہیں۔
دوسری جانب عرب میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی قید سے رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں نے حراستی مراکز میں روا رکھے جانے والے تشدد، ذلت اور اذیت ناک سلوک کی لرزہ خیز تفصیلات بیان کی ہیں۔ ایک سابق قیدی نے اسرائیل کی معروف اوفر جیل کو ذبح خانہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ قیدیوں کو دن رات تشدد اور بھوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ریڈ کراس کو اسرائیلی حکام کی جانب سے 45 فلسطینی قیدیوں کی لاشیں موصول ہوئیں، جبکہ تقریباً 2 ہزار قیدی رہا کیے گئے جن میں سے 154 کو مصر منتقل کر دیا گیا ہے۔
7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 67 ہزار 194 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 169,890 تک پہنچ گئی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا تسلسل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خطے میں امن ابھی ایک دور کا خواب ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔