ڈاکٹر اورنگزیب ایچ ای سی کے کمیشن رکن مقرر، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
— تصویر بشکریہ رپورٹر
وزیراعظم پاکستان نے وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سفارش پر شہید بے نظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اورنگزیب کو وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کمیشن رکن مقرر کر کے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔
ان کی تقرری 4 برس کے لیے ڈاکٹر عطا الرحمٰن کی جگہ عمل میں آئی ہے جن کی مدت رواں برس مکمل ہوگئی تھی۔
ڈاکٹر اورنگزیب چیئرمین ہائی ایجوکیشن کمیشن کی تلاش کے لیے قائم کمیٹی کے بھی رکن ہیں اور اس وقت کمیٹی کو چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کے عہدے کے لیے 550 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن کی چانچ شروع کردی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مستقل چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تعیناتی مکمل ہونے تک چیئرمین کے عہدے کا اضافی چارج ڈاکٹر اورنگ زیب کو دیا جاسکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایجوکیشن کمیشن
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔