کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) نے پہلی بار مشرقِ وسطیٰ میں منعقد ہونے والی ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ اکیڈمک سمٹ 2025 کی میزبانی کی۔

یہ بھی پڑھیں:’سعودی عرب اب میرا گھر ہے‘، رونالڈو

یہ 3 روزہ اجلاس منگل سے شروع ہوا، جس میں 28 ممالک کے 75 اداروں سے تعلق رکھنے والے 750 شرکاء اور 105 کلیدی مقررین شریک ہیں۔

سمٹ کا مرکزی موضوع ’یونیورسٹیاں تبدیلی کی محرک قوت کے طور پر‘ رکھا گیا، جس میں دنیا بھر کے جامعات کے سربراہان، پالیسی ساز، صنعت کار اور ماہرینِ تعلیم شریک ہوئے۔

اجلاس میں یونیورسٹیوں کے کردار پر بات کی گئی کہ وہ اختراعات، معاشی ترقی، پائیداری، ثقافتی تحفظ اور عالمی تعاون میں کس طرح مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔

پائیدار شہروں اور نئی نسل کی تیاری پر مباحثے

سمٹ کے دوران مختلف موضوعات زیرِ بحث آئے جن میں پائیدار اور مضبوط شہروں کی تعمیر میں جامعات کا کردار، عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ تعلیم کا ارتقا، اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے نئی نسل کی تیاری شامل تھے۔

مقررین نے ریسرچ پر مبنی عملی تجاویز پیش کیں، جن میں صحت، مصنوعی ذہانت (AI)، ماحولیات اور پائیدار ترقی سے متعلق جدید حل شامل تھے۔

’سعودی عرب سائنس و اختراع میں قائد بن رہا ہے، سر ایڈورڈ بائرن

یونیورسٹی کے صدر سر ایڈورڈ بائرن نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اس تاریخی سمٹ کی میزبانی سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی سائنسی و تحقیقی قیادت کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی پاک انویسٹمنٹ کمپنی پاکستان میں سرمایہ کاری کیسے کر رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کو تشکیل دینے اور عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے کا موقع ہے۔ KAUST اس لحاظ سے ایک ماڈل یونیورسٹی ہے جو حقیقی اثر پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

ٹائمز ہائر ایجوکیشن کے نمائندے کی تعریف

ٹائمز ہائر ایجوکیشن کے چیف گلوبل افیئرز آفیسر فل بیٹی نے کہا کہ یہ سمٹ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی سب سے بااثر شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر لایا ہے تاکہ آج کے چیلنجز اور مواقع پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

ان کے مطابق KAUST  کی میزبانی سعودی وژن 2030 کے تحت مملکت کی تحقیق، ترقی اور اختراع سے متعلق ترجیحات کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ترجیحات صحت، ماحولیات، توانائی، صنعت اور مستقبل کی معیشتوں جیسے کلیدی شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔

عالمی سطح پر KAUST کا ابھرتا ہوا کردار

اس سمٹ نے KAUST کو عالمی سطح پر ایک سائنس و ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر نمایاں کر دیا ہے، جہاں تحقیق اور تعلیم کے ذریعے دنیا کے بڑے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

KAUST ٹائمز ہائر ایجوکیشن ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ اکیڈمک سمٹ 2025 سر ایڈورڈ بائرن کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹائمز ہائر ایجوکیشن سر ایڈورڈ بائرن کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے