سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد ایک اور بڑی اہم پیشرفت ہوئی ہے، سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق شہزادہ منصور بن محمد السعود کی سربراہی میں وفد اسلام آباد پہنچا ہے۔
سعودی وفد کی پاکستان میں وزیراعظم سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول ہیں جبکہ دورے کے دوران پاکستان اورسعودی عرب کےدرمیان مختلف معاہدوں اورمفاہمتی یادداشتوں پردستخط بھی متوقع ہیں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم نے دفاعی معاہدے کے بعد اقتصادی تعلقات کو مزید بڑھانے اور اس کے ثمرات حاصل کرنے کیلیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی تھی ، جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق 18 رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی مذاکرات کی قیادت کرے گی۔
کمیٹی کے ممبران میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احدچیمہ، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ توانائی اویس لغاری، وزیرِ خوراک رانا تنویر حسین، وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان، چیئرمین ایس ای سی پی عاکف سعید، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین اور دیگر شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ کمیٹی کے مشترکہ چیئرمین سعودی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے مرکزی ٹیمیں تشکیل دیں گے جو تیز رفتاری سے اپنے فرائض سرانجام دیں گی جبکہ اراکین کی دستیابی 6 اکتوبر 2025 سے یقینی بنائی جائے گی۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کا دائرہ دفاع اور توانائی سے بڑھ کر ماحولیات اور موسمیاتی استحکام کے شعبوں تک وسیع ہو رہا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر