سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد ایک اور بڑی اہم پیشرفت ہوئی ہے، سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا۔ایکسپریس نیوز کے مطابق شہزادہ منصور بن محمد السعود کی سربراہی میں وفد اسلام آباد پہنچا ہے۔سعودی وفد کی پاکستان میں وزیراعظم سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں شیڈول ہیں جبکہ دورے کے دوران پاکستان اورسعودی عرب کےدرمیان مختلف معاہدوں اورمفاہمتی یادداشتوں پردستخط بھی متوقع ہیں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم نے دفاعی معاہدے کے بعد اقتصادی تعلقات کو مزید بڑھانے اور اس کے ثمرات حاصل کرنے کیلیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی تھی ، جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق 18 رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی مذاکرات کی قیادت کرے گی۔کمیٹی کے ممبران میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احدچیمہ، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ توانائی اویس لغاری، وزیرِ خوراک رانا تنویر حسین، وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ، وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان، چیئرمین ایس ای سی پی عاکف سعید، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین اور دیگر شامل ہیں۔
ایس ایم ایس وٹس ایپ اور کالز کے ذریعے فشنگ حملوں میں اضافہ ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نےشہریوں کو خبردار کر دیا
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ کمیٹی کے مشترکہ چیئرمین سعودی ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے مرکزی ٹیمیں تشکیل دیں گے جو تیز رفتاری سے اپنے فرائض سرانجام دیں گی جبکہ اراکین کی دستیابی 6 اکتوبر 2025 سے یقینی بنائی جائے گی۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کا دائرہ دفاع اور توانائی سے بڑھ کر ماحولیات اور موسمیاتی استحکام کے شعبوں تک وسیع ہو رہا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔