پاکستان اقتصادی استحکام اور ترقی کی راہ پر عزم و ہمت کے ساتھ گامزن
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
ایس آئی ایف سی کے مؤثر کردار نے عالمی سطح پر پاکستان کو معاشی طور پر اجاگر کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بیلجیئم کیٹلاگز کی نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ نمائش میں بیلجیئم کے سفیر چارلس ایڈسبالڈ وین ڈر گراخت، چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل اور دیگر اہم عہدیداران شریک ہوئے۔
نمائش میں 100 سے زائد بیلجیئم کی کمپنیوں نے ایرو ناؤٹکس، تعمیرات، ادویات، آئی ٹی اور دیگر شعبوں کے کیٹلاگز پیش کیے۔ پاکستان اور بیلجیئم نے دو طرفہ اقتصادی تعاون، تجارتی روابط اور تعلیمی و سرمایہ کاری شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کا عزم کا اعادہ کیا۔
غیر ملکی سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع میں اضافہ اور مقامی صنعتوں کی ترقی ممکن ہوگی جبکہ بین الاقوامی تجارتی شراکت داری سے معاشی استحکام اور برآمدات میں توازن قائم ہوگا۔
ایس آئی ایف سی غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور بین الاقوامی تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔