این پی سی حملہ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
این پی سی حملہ،جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 7 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )صدر این پی سی اظہر جتوئی کی سربراہی میں وفد کی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے ملاقات،سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیر علی نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے نکات پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کو بریف کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ چارٹر آف ڈیمانڈ کی روشنی میں ملک بھر کے پریس کلبز کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر وزیر اعظم ، وفاقی وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر اطلاعات نے بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کے احکامات دیئے اورہدایات جاری کیں کہ آئندہ ایسے کسی بھی قابل مذمت واقعے سے بچنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایسے اقدامات کریں گے کہ پولیس کسی بھی پریس کلب میں داخلے سے پہلے انتظامیہ کی باضابطہ اجازت طلب کرے گی، حکومت نے نیشنل پریس کلب پر حملے کی پہلے بھی مذمت اور معذرت کی تھی اور اب بھی کرتی ہے۔ گزشتہ روز نیشنل پریس کلب میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس صدر اظہر جتوئی کی زیر صدارت ہوا جوائنٹ ایکشن کمیٹی اجلاس میں حاجی نواز رضا، افضل بٹ، شکیل احمد، شکیل قرار، سعدیہ کمال، ایم بی سومرو، نوید اکبر ، جاوید ملک، طارق ورک، رانا کوثر علی، طارق عثمانی ، محبوب الرحمن تنولی اور سیکرٹری جوائنٹ ایکشن کمیٹی نیر علی نے شرکت کی۔
اجلاس میں اراکین کی تجاویز کی روشنی میں مجوزہ چارٹر آف ڈیمانڈ کو حتمی شکل دی گئی اور کمیٹی نے درج ذیل نکات کی متفقہ طور پرمنظوری دی۔ نیشنل پریس کلب پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کر کے قرار واقعی سزا دی جائے ، حملے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے فوری طور پر اعلی سطح انکوائری کمیٹی قائم کی جائے جو وزارت داخلہ، وزارت اطلاعات اور نیشنل پریس کلب کے نامزد کردہ صحافیوں پر مشتمل ہو۔ انکوائری کمیٹی اسلام آباد پولیس اہلکاروں کے تشدد کا نشانہ بننے والے رپورٹرز، ویڈیو جرنلسٹس ، فوٹو گرافرز اور پریس کلب ملازمین کے نقصانات کا تعین کرکے ازالہ یقینی بنائے۔ نیشنل پریس کلب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے چارٹر آف ڈیمانڈ موصول ہونے کے بعد وزارت داخلہ 24 گھنٹے میں انکوائری کمیٹی کا نوٹفکینشن جاری کر کے 4 روز کے اندر رپورٹ پیش کرے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی پی سے تنازع کے حل کیلئے ن لیگ متحرک: وزیراعظم کی واپسی تک انتظار کا مشورہ، معاملات حل کرنے کی یقین دہانی پی پی سے تنازع کے حل کیلئے ن لیگ متحرک: وزیراعظم کی واپسی تک انتظار کا مشورہ، معاملات حل کرنے کی یقین دہانی اسرائیلی جارحیت کے 2 سال، غزہ کی 3 فیصد آبادی شہید، 90 فیصد مکانات تباہ افغانستان میں فوجی انفرا اسٹرکچر کی کوششیں ناقابلِ قبول: ماسکو فارمیٹ کا مشترکہ اعلامیہ پاکستان دنیا کا واحد ملک جہاں سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو رہا ہے، سلمان اکرم راجا عنبرین جان،شاہیرہ شاہد یا توقیر شاہ ،کون بنے گا چیئرمین پیمرا؟ کچھ لوگ پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں، ان کے خلاف بات کرتی رہوں گی: مریم نوازCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جوائنٹ ایکشن کمیٹی داخلہ طلال چوہدری چارٹر آف ڈیمانڈ وزیر مملکت
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔