اللہ کے بعد غزہ کے جانبازوں کا شکریہ، فلسطینی قیدیوں کے جذباتی پیغام
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ بیت المقدس: غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے نتیجے میں حماس نے 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا تو اس کے جواب میں اسرائیلی حکام کو بھی تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرنا پڑا۔
مغربی کنارے اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جب یہ قیدی اپنے گھروں کو لوٹے تو اہلِ خانہ نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ خوشی، آنسو، اور عقیدت کے ملے جلے جذبات نے ہر دل کو چھو لیا۔
ایک رہائی پانے والے فلسطینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، سب سے پہلے ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور پھر غزہ کے ان جانثاروں کا جنہوں نے اپنی قربانیوں سے ہمیں باعزت آزادی دلائی۔ ہم ان کے قدم چومتے ہیں۔ یہ رہائی صرف ایک شخص یا گروہ کی نہیں بلکہ پوری فلسطینی قوم کی عزت و وقار کی علامت ہے۔
قیدی نے مزید بتایا کہ اسرائیلی جیلوں میں حالات انتہائی سخت تھے۔ چار دن پہلے ہمیں کوٹھریوں سے نکالا گیا، تب سے ہمیں مارا پیٹا گیا، بے عزت کیا گیا اور غیر انسانی سلوک برداشت کرنا پڑا۔ اس کی آواز بھر آئی جب اس نے کہا کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ جیسے ہم اپنے پیاروں سے جا ملے ہیں، ویسے ہی باقی قیدی بھی جلد اپنے گھروں کو واپس آئیں۔
یہ منظر فلسطینی عوام کے حوصلے، ایمان اور استقامت کی جھلک پیش کرتا ہے۔ غزہ کے مجاہدین کی قربانیاں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ ان کے اثرات اسرائیلی قید خانوں تک پہنچ گئے ہیں۔
فلسطینی قیدیوں کی رہائی اس جدوجہدِ آزادی کا ایک اور تاریخی باب ہے، جس نے دنیا کو یاد دلا دیا کہ مظلوم قومیں جب ایمان اور عزم سے کھڑی ہوں تو کسی طاقت کے لیے انہیں جھکانا ممکن نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔