غزہ کے لوگوں اور مزاحمت کے قدم چومتے ہیں جنہوں نے رہائی دلوائی، اسرائیلی جیل سے رہا فلسطینی کی گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
غزہ جنگ بندی معاہدہ کے تحت حماس نے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا جس کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدی بھی اسرائیلی جیلوں سے رہا ہوچکے ہیں۔
اسرائیلی جیل سے رہائی کے بعد مغربی کنارے پہنچنے والے ایک فلسطینی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور پھر غزہ کے لوگوں اور مزاحمت کے قدم چومتے ہیں جنہوں نے ہمیں عزت کے ساتھ رہائی دلوائی۔
رہائی پانے والے فلسطینی نے دعا کی کہ تمام فلسطینی قیدیوں کو آزادی ملے، ہم ان سب کے لیے آزادی کی دعا کرتے ہیں کہ جیسے ہم اپنے گھروالوں اور خاندانوں سے دوبارہ مل گئے ہیں وہ بھی اپنے خاندان سے آملیں۔
اس موقع پر صحافی نے رہائی پانے والے فلسطینی سے اسرائیلی جیل میں اس کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے متعلق سوال کیا۔
جواب میں فلسطینی شہری نے کہا کہ جیل کے حالات بہت زیادہ سخت تھے، ہمیں 4 دن پہلے اپنی کوٹھریوں سے نکالا گیا اور تب سے ہمیں مارا پیٹا جاتارہا اور ذلیل کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی جیل
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔