تحریک تحفظ کی پریس کانفرنس، پولیس کا کوئٹہ پریس کلب کا محاصرہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
کوئٹہ پریس کلب میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے صوبائی رہنماؤں کی پریس کانفرنس کی کال پر پولیس نے کوئٹہ پریس کلب کا محاصرہ کرتے ہوئے راستے بند کر دیئے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے صوبائی رہنماؤں کی جانب سے پریس کانفرنس کی کال پر پولیس نے کوئٹہ پریس کلب کا محاصرہ کرتے ہوئے راستے بند کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق آج تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل اپوزیشن جماعتوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی کال دی تھی۔ تاہم کوئٹہ پولیس نے پریس کانفرنس سے قبل ہی کوئٹہ پریس کلب کا محاصرہ کرتے ہوئے پریس کلب کے راستے بند کر دیئے۔ پریس کلب کے قریب قیدیوں کی خالی وین بھی لائی گئی تھی۔ صحافیوں نے بتایا کہ پولیس تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کو پریس کانفرنس سے روکنے آئی ہے۔ ضرورت پڑنے پر رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب کوئٹہ پولیس کی جانب سے پریس کلب کے محاصرے سے متعلق موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ صحافیوں نے پولیس کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت اور بنیادی حقوق پر حملہ قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کوئٹہ پریس کلب کا محاصرہ تحریک تحفظ آئین پاکستان پریس کانفرنس کرتے ہوئے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔