پاکستان اور یورپی یونین کا غیرقانونی ہجرت روکنے اور قانونی راستے فعال کرنے کیلئے معاونت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان اور یورپی یونین نے غیرقانونی ہجرت روکنے اور قانونی راستے فعال کرنے کی حمایت اور معاونت کا اعادہ کیا اور یورا معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
دفترخارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برسلز میں یورپی یونین کے کمشنر برائے امور داخلہ اور مائیگریشن میگنس برونر سے ملاقات کی اور اس دوران انہوں نے حال ہی میں منعقد ہونے والے پاکستان-ای یو مائیگریشن موبلٹی ڈائیلاگ کا خیرمقدم کیا۔
اسحاق ڈار نے یورپی یونین میں ہنر مند لیبر کی قانونی نقل مکانی آسان بنانے اور ان کو منظم کرنے کے لیے "ڈائیلاگ فریم ورک” کی افادیت پر روشنی ڈالی۔
اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے نقل مکانی اور مزدوروں کی نقل و حرکت سے متعلق امور پر دو طرفہ تعاون کی بڑھتی ہوئی سطح کو سراہا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان "یورا معاہدے” پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہے اور یورپی یونین کے کمشنر برنر نے غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
دونوں اطراف نے "پاکستان-یورپی یونین ٹیلنٹ پارٹنرشپ روڈ میپ” کے ذریعے غیر قانونی ہجرت روکنے اور قانونی راستے فعال کرنے کی حمایت اور معاونت کا اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور یورپی یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ کے لیے پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل اور یورپی یونین اسحاق ڈار کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔