اللہ کے بعد غزہ کے جانبازوں کا شکریہ ان کے قدم چومتا ہوں، فلسطینی قیدی کا جذباتی پیغام
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
غزہ:
جنگ بندی معاہدے کے تحت حماس کی جانب سے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے جواب میں اسرائیلی حکام نے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو جیلوں سے رہا کر دیا، جنہیں مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں ان کے اہل خانہ نے جذبۂ عقیدت و شکر کے ساتھ خوش آمدید کہا۔
مغربی کنارے پہنچنے والے ایک رہائی پانے والے فلسطینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں پھر غزہ کے ان جانثاروں کا جنہوں نے اپنی قربانیوں سے ہمیں عزت کے ساتھ رہائی دلائی، ہم ان کے قدم چومتے ہیں۔"
رہائی پانے والے قیدی نے تمام فلسطینی اسیران کی آزادی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہم اپنے اہلِ خانہ سے جا ملے ہیں، ویسے ہی باقی قیدی بھی جلد اپنے گھروں کو لوٹیں۔
رہائی پانے والے قیدی نے مزید بتایا کہ چار دن پہلے ہمیں کوٹھریوں سے نکالا گیا، تب سے ہمیں مارا پیٹا جاتا رہا، بے عزتی کی گئی، اور غیر انسانی سلوک روا رکھا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔