برازیل کے سابق صدر جائر بولسونارو کو حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برازیل کے سابق صدر جائر بولسونارو کو عدالتی حکم کے تحت باقاعدہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق 70 سالہ بولسونارو گزشتہ چند ماہ سے گھر میں نظر بندی کی حالت میں سزا کاٹ رہے تھے، تاہم عدالت نے انہیں گھر میں قید رکھنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے جیل بھیجے جانے کا حکم دیا۔
بولسونارو کی قانونی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سابق صدر کی صحت جیل کے ماحول میں خراب ہو سکتی ہے، اس لیے انہیں 2022 میں مبینہ طور پر بغاوت کی ناکام کوشش سے متعلق عائد 27 سال قید کی سزا گھر پر ہی پوری کرنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم عدالت نے اس درخواست کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق بولسونارو پر الزام ہے کہ انہوں نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اپنے حامیوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اُکسا کر جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں انہیں طویل قید کی سزا سنائی گئی۔
حکام کے مطابق اب سابق صدر برازیل کے پینل سسٹم کے تحت باضابطہ طور پر اپنی سزا جیل میں مکمل کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔